فلسطینی شہری غزہ میں اپنی زندگیوں کو نئے سرے سے کھڑا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ تاکہ اپنے تباہ شدہ گھروں کی از سر نو تعمیر کریں۔ لیکن وہ ایسی بہت سی چیزوں اور لوازمات سے دور ہیں جو ان کی نئی زندگی کے آغاز اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے ضروری ہیں۔
ان کے پاس خوراک ہے نہ ادویات، نہ پینے کا پانی اور نہ ہی نقدی۔ اتوار کے کے روز جنگ بندی کے بعد غزہ میں بنکوں کے پہلی بار کھلنے کا موقع آیا تو بنکوں کے صارفین اور کھاتہ دار بنکوں کی طرف دوڑے لیکن وہ جلد ہی مایوس ہوگئے۔
خان یونس کے 38 سالہ احمد کا کہنا ہے کہ میں فوری طور پر دیر البلاح میں قائم بنک آف فلسطین کی شاخ پہنچا جو جنوبی غزہ میں ہے لیکن ناکام لوٹا۔ میں اس لیے گیا تھا کہ اپنی تنخواہیں جو ایک عرصے سے وصول نہیں کر سکا ان کی وصولی کے لیے بنک سے رابطہ کر سکوں لیکن بنک میں کیش سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔
احمد جو شمالی غزہ سے جبری طور پر نکالا گیا تھاچاہتا تھا کہ کریڈٹ کارڈ کی تجدید کر لے لیکن بنک کے خزانے میں کچھ نہیں ہے۔
ایک اور فلسطینی شہری تیسر ابو شابق نے کہا اب ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہم مارکیٹ سے کچھ خرید نہیں سکتے اور نہ ہی ہم بنک میں اپنا اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔ہم کیسے کھا سکتے ہیں اور کیسے جی سکتے ہیں۔ دو سال سے غزہ میں اسرائیلی جنگ جاری رہی۔ جس میں انتہائی بہیمانہ اور غیر انسانی انداز سے فلسطینیوں کو قتل کیا گیا۔ اب دو سال بعد بنک کھلے ہیں لیکن ان کے اپنے صارفین کے سامنے ہاتھ کھڑے ہیں کہ انہیں دینے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔
پچھلے ہفتے امریکی دباؤ کے بعد اسرائیل اور حماس نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں اتوار کے روز فلسطینی بنک کی دو شاخوں نے اپنی برانچوں کو دوبارہ سے کھولا۔ بنکوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگیں لیکن کسی بنک کے پاس اپنے صارفین کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
ایک فلسطینی بنک کے ذمہ دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر 'اے ایف پی' کو بتایا بنکوں میں کیش نہیں ہے۔ لوگ اب تک وہی کیش استعمال کر رہے ہیں جو ان کے پاس جنگ سے پہلے سے چلا آرہا ہے۔ اس رقم سے کھانے کی اشیاء خریدتے ہیں۔ اگرچہ بنکوں کے ذریعے خریداری ایک پیچیدہ عمل ہے کیونکہ بنکوں کا مواصلاتی نظام بھی بری طرح پامال ہے۔
ایک اور بنک کے ذمہ دار نے کہا غزہ کے لوگوں کی وہ ساری بچتیں جو انہوں نے بنکوں میں جمع کرائی تھیں وہ ضائع ہو چکی ہیں۔ اگرچہ ان پر ٹرانسفر وغیرہ پر کمیشن 40 فیصد تک ہو چکا ہے۔ غزہ کے لوگ جیب سے خالی ہیں اور ان کے اکاؤنٹ بھی خالی ہیں۔
40 سالہ محمود ناصر نے اس صورتحال میں کہا میں یہی سوچتا تھا کہ آج بنک کھلے ہیں تو میں اپنی رقم بنک سے نکلوا سکوں گا۔ میں بہت خوش اور پر امید تھا لیکن جب میں بنک پہنچا تو مجھے پتا چلا کہ بنک میں کوئی کیش موجود نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم پھر وہیں زیرو پر پہنچ گئے ہیں۔
33 سالہ ندا ابو عامرہ نے کہا میرا شوہر بھی بنک سے پیسے نکلوانے کے لیے آج گیا تھا۔ لیکن انہیں پتا چلا کہ وہاں سے کچھ ملنے کا نہیں ہے۔ بلاشبہ بنک آج دوبارہ کھل گئے تھے لیکن ان میں لوگوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ لوگ مایوس اور بے چین ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کم از کم 100 شیکل بھی انہیں بغیر کمیشن ادا کیے مل جائیں کہ اس سے وہ ایک وقت کا کھانا خرید سکیں مگر یہ بھی ممکن نہیں ہے۔