اسرائیلی فوج نے منگل کی شام اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے غزہ میں زیر حراست دو اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں وصول کر لی ہیں۔
اس سے قبل حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے تحت دو اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں منگل کو واپس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
القسام بریگیڈز نے اپنے بیان میں کہا کہ "ہم رات 9 بجے (غزہ کے وقت کے مطابق) دو اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں حوالے کریں گے"۔
اگر یہ عمل مکمل ہو گیا تو جنگ بندی کے آغاز سے اب تک حماس کی جانب سے اسرائیل کو مجموعی طور پر 15 لاشیں واپس کی جا چکی ہوں گی۔
دوسری جانب بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے 15 فلسطینیوں کی میتیں غزہ منتقل کی ہیں۔ یہ اقدام امریکہ کی سرپرستی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت کیا گیا، جس کے بعد فلسطینی فریق کو ملنے والی میتوں کی کل تعداد 165 ہو گئی ہے۔
ریڈ کراس کے بیان میں کہا گیا ہےکہ " کل ریڈ کراس نے فلسطینی شہریوں کی لاشیں غزہ کے حکام کے حوالے کرنے میں سہولت فراہم کی۔ غزہ کے مقامی طبی حکام نے تصدیق کی کہ آج موصول ہونے والی لاشوں کی تعداد 15 ہے۔"
غزہ کی وزارت صحت نے بھی اس بات کی توثیق کی ہے کہ اسے اسرائیل سے 15 لاشیں ملی ہیں، جن میں سے کسی کی شناخت نہیں ہو سکی۔ وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اب تک موصول ہونے والی لاشوں کی مجموعی تعداد 165 ہے۔
معاہدے کے مطابق اسرائیل ہر اسرائیلی لاش کے بدلے 15 فلسطینیوں کی میتیں واپس کرے گا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق پیر کے روز حماس نے 13ویں اسرائیلی قیدی کی لاش حوالے کی تھی۔
غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ
غزہ کی وزارت صحت نے منگل کو بتایا کہ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 68 ہزار 229 ہو گئی ہے، جب کہ زخمیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار 369 تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں 13 فلسطینیوں کی لاشیں لائی گئیں، جن میں سے 7 کو براہِ راست اسرائیلی حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جب کہ 6 لاشیں ملبے سے نکالی گئیں۔ مزید 8 افراد زخمی حالت میں ہسپتال پہنچے۔ وزارت نے ان سات فلسطینیوں کی ہلاکت کے حالات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
وزارت صحت نے مزید بتایا کہ جنگ بندی کے 11 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فوج 87 فلسطینیوں کو ہلاک اور 311 کو زخمی کر چکی ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ متعدد لاشیں اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں، جہاں ایمبولینس اور سول ڈیفنس کے عملے کو تاحال رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔