غزہ میں ٹرمپ پلان کے اگلے مراحل کی تفصیلات: کیا مکمل ہوا اور آگے کیا متوقع ہے؟
امریکی صدر کے مجوزہ 20 نکاتی منصوبے میں پیش رفت، ثالث ممالک کی سرگرمیوں میں تیزی
امریکہ ، مصر اور قطر نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو مستحکم کرنے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے پر عمل درآمد آگے بڑھانے کے لیے اس ہفتے اپنی سفارتی کوششوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
مذاکرات کی موجودہ صورتِ حال
حماس کا ایک وفد خلیل الحیہ کی قیادت میں ہفتے سے قاہرہ میں موجود ہے، جہاں وہ مصری حکام سے مذاکرات کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو اسرائیل پہنچے، اس سے ایک روز قبل امریکی نمائندوں اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کُشنر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کی۔ مصری انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل حسن محمود رشاد بھی نیتن یاھو سے ملاقات کر چکے ہیں تاکہ امریکی صدر کے غزہ منصوبے پر پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔
معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں فریقین نے جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، انسانی امداد میں اضافے اور اسرائیلی افواج کے جزوی انخلا پر اتفاق کیا تھا۔
اب تک فریقین نے کیا اقدامات کیے؟
اسرائیلی فوج نے غزہ کی بعض علاقوں سے پسپائی اختیار کی ہے، تاہم تقریباً نصف علاقہ اب بھی اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس نے "پیلی لاین" مقرر کر دی ہے، جس سے تجاوز کرنے سے حماس اور شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے۔
حماس نے اپنے زیرِ قبضہ 20 زندہ اسرائیلی یرغمالی اور 13 لاشیں واپس کی ہیں، جب کہ 15 مزید لاشیں اب بھی غزہ میں موجود ہیں۔ حماس کے مطابق ملبہ اور دیگر رکاوٹیں باقی لاشوں کی برآمد میں تاخیر کا باعث ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس مزید 5 لاشیں فوری طور پر واپس کر سکتی ہے مگر تاخیر کر رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں 250 ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے حماس کے بعض سینیئر رہنماؤں کی رہائی سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ 165 فلسطینیوں کی لاشیں بھی غزہ منتقل کر دی گئیں۔
امدادی کارروائیوں کے سلسلے میں اسرائیل نے دو سرحدی گذرگاہوں سے امدادی ٹرکوں کی آمد میں اضافہ کیا، تاہم اقوام متحدہ اور فلسطینی حکام کے مطابق امداد اب بھی ناکافی ہے۔
عمل درآمد میں حائل مشکلات
معاہدے کے باوجود غزہ میں تشدد کے واقعات جاری ہیں، بالخصوص "یلو لائن" کے اطراف جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے پیر کو اس لائن کو واضح کرنے کے لیے زرد رنگ کے کنکریٹ بلاک نصب کیے، تاہم غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اس کی حد بندی اب بھی غیر واضح ہے۔
اتوار کو رفح میں فلسطینی جنگجوؤں نے دو اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کیا، جس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی حملے کیے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں 28 افراد جاں بحق ہوئے۔ بعد ازاں حماس اور اسرائیل دونوں نے جنگ بندی پر قائم رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ نے بھی جنگ بندی کی حمایت کی، تاہم امریکی فوج نے کہا کہ مزید کارروائیوں کی ضرورت نہیں۔
حماس کا کہنا ہے کہ امداد کی فراہمی انتہائی سست روی کا شکار ہے، جب کہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ طے شدہ شرائط پر کاربند ہے۔ رفح سرحدی گزرگاہ تاحال دوبارہ نہیں کھولی گئی۔
اگلے مراحل پر غور
منصوبے کے تحت ایک "استحکام فورس" تشکیل دی جا رہی ہے جو امریکی حمایت سے غزہ میں سکیورٹی کی نگرانی کرے گی۔ اس فورس کی تشکیل، قیادت اور قانونی حیثیت پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
امریکہ اس فورس کے لیے 200 فوجی فراہم کرنے پر آمادہ ہے، تاہم انہیں غزہ میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔ واشنگٹن انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، ترکیہ اور آذربائیجان کے ساتھ بھی اس فورس میں شمولیت کے لیے رابطے میں ہے۔
ٹرمپ چاہتے ہیں کہ حماس اور دیگر فلسطینی گروہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور غزہ کو غیر مسلح علاقہ قرار دیا جائے، تاہم حماس نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر باضابطہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے۔
غزہ کی انتظامیہ کے لیے ایک غیر سیاسی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی قائم کرنے پر اصولی اتفاق ہوا ہے، جس کی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔ حماس نے کمیٹی کے قیام پر رضامندی ظاہر کی ہے مگر کہا ہے کہ اسے منظوری کا حق حاصل ہوگا۔
اس کمیٹی کی نگرانی ایک نئی عالمی عبوری تنظیم "کونسل آف پیس" کرے گی، جس کی سربراہی صدر ٹرمپ کے پاس ہوگی۔ تاحال اس کے اراکین کا تعین نہیں ہوا، تاہم سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا نام بطور ممکنہ رکن زیرِ غور ہے۔
حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ 2007 سے قائم اپنی انتظامیہ کے ملازمین کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، جب کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کو کسی بھی طور انتظامیہ کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔
اسرائیلی انخلا کے آئندہ مراحل کا فیصلہ بھی زیرِ غور ہے جو جزوی طور پر اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے اس اندازے پر منحصر ہوگا کہ حماس اب بھی کتنا خطرہ ہے۔ حماس کا مؤقف ہے کہ جنگ اُس وقت ہی ختم ہوگی جب اسرائیل مکمل طور پر واپس چلا جائے گا۔
ٹرمپ کے منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات بھی شامل ہیں، تاہم ان کی نوعیت اور مستقبل کے کردار کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
منصوبے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا تسلسل بالآخر فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے ایک قابلِ اعتماد راستہ فراہم کر سکتا ہے، تاہم بنجمن نیتن یاھو اب تک کسی فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو تسلیم کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔