محمود خلیل کی عدالت میں پیشی، ٹرمپ انتظامیہ کی انہیں ملک بدر کرنے کی کوششیں جاری

کولمبیا یونیورسٹی کے فارغ التحصیل محمود خلیل سات اکتوبر 2025 کو کولمبیا یونیورسٹی کے باہر فلسطینی حامی احتجاج میں شریک ہیں۔ (رائٹرز)

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

محمود خلیل منگل کو فلاڈیلفیا کی ایک وفاقی اپیل کورٹ میں پیش ہوئے۔ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس مقدمے کو چیلنج کر رہے ہیں جس کے تحت انہیں کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینی حامی مظاہروں پر ملک بدری کا سامنا ہے۔

ایک زیریں عدالت نے خلیل کو جون میں لوزیانا کی تارکینِ وطن جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا تھا جسے حکومت کالعدم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

خلیل کے وکلاء نے تین ججز کے پینل سے ضلعی عدالت کے اس فیصلے کی توثیق کرنے کو کہا ہے جو وفاقی حکام کو انہیں دوبارہ حراست میں لینے اور ملک بدری کا عمل شروع کرنے سے روکتا ہے۔

حکومت کے وکیل ڈریو اینسائن نے جواب دیا کہ زیریں عدالت کے جج نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور یہ کیس لوزیانا میں امیگریشن جج پر چھوڑ دیا جائے۔

انہوں نے کہا، "یہ سب ایک غلط فورم پر کیا جا رہا ہے۔ تو اسے رک جانا چاہیے۔"

ایک امیگریشن جج نے گذشتہ ماہ فیصلہ دیا تھا کہ خلیل کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے حالانکہ مقدمہ اب ایک علیحدہ اپیل بورڈ کے زیرِ سماعت ہے۔

ایک امریکی شہری سے شادی شدہ اور امریکہ کے قانونی رہائشی خلیل نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مقدمہ زیرِ سماعت رہنے تک وہ فلسطینیوں کی وکالت جاری رکھیں گے۔ انہیں حال ہی میں ایک مجسٹریٹ جج نے مظاہروں اور دیگر تقریبات کے لیے پورے ملک میں سفر کرنے کی اجازت دی تھی۔

خلیل نے سماعت کے بعد ایک بیان میں کہا، "وہ پورے ملک میں فلسطین کے حق میں بولنے والوں کو ڈرانے کے لیے مجھے مثال بنانا چاہتے ہیں۔ میں واضح طور پر کہہ رہا ہوں: میں وفاقی عدالتوں میں اپنے حقوق اور ہر ایک کے حقِ آزادی اظہار کے لیے اپنی قانونی لڑائی جاری رکھوں گا۔"

خلیل ٹرمپ انتظامیہ میں گرفتار ہونے والے پہلے احتجاجی تھے۔ انہوں نے متعدد بار یہود دشمنی کے الزامات مسترد کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں