اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق قیمتی شاہی زیورات کی چوری پر تین دن بند رہنے کے بعد لوور میوزیم نے بدھ کو اپنے دروازے زائرین کے لیے دوبارہ کھول دیئے۔
معمول کے وقت صبح 9:00 بجے سے زائرین نے عالمی شہرت یافتہ ادارے میں داخل ہونا شروع کر دیا حالانکہ میوزیم نے کہا ہے کہ اپولو گیلری بند ہے جہاں اتوار کو چوری ہوئی تھی۔
اتوار کی غیر معمولی چوری کے مجرموں کی تلاش کرنے والے متعدد تفتیش کار اس نظریئے پر کام کر رہے ہیں کہ یہ جرائم کا ایک منظم گروہ تھا جو میوزیم میں داخل ہونے کے لیے ٹرک پر سیڑھی لگا کر کھڑکی پر چڑھا۔ پھر عجلت میں بھاگتے ہوئے ہیروں سے مرصع تاج گرا دیا۔
وہ آٹھ بیش قیمت زیورات لے اڑے بشمول زمرد اور ہیروں سے مرصع ایک ہار جو نپولین اوّل نے اپنی اہلیہ ایمپریس میری لوئیس کو دیا تھا اور ایک تاج نما زیور جو کبھی ملکہ یوجینی کا تھا۔ یہ تقریباً 2,000 ہیروں سے مرّصع ہے۔
چوری کے اگلے دن پیرس کے قلب میں واقع لوور کے داخلی دروازے پر زائرین کو مایوس لوٹنا پڑا اور یہ اپنے باقاعدہ اوقات کے دوران منگل کو بند رہا۔
دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے میوزیم نے گذشتہ سال اپنے وسیع کمروں اورراہداریوں میں نو ملین لوگوں کا خیرمقدم کیا۔
گذشتہ ماہ دو دیگر ادارے مجرمانہ واقعات کا نشانہ بنے جس کے بعد اس چوری سے فرانس کے عجائب گھروں میں سکیورٹی کی کمی کا مسئلہ دوبارہ زیرِ بحث آ گیا ہے۔