بھارت : آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال پر قدغنوں کے لیے قانون میں ترامیم کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

افغانستان کے بعد بھارت نے بھی اپنے ہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے استعمال پر قدغنوں کے سلسلے میں اقدامات کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ قانون میں ترامیم کی تیاری پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں بھارت سرکار نے اس تجویز پر غور شروع کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال پر چیک لگانے کے لیے نئے قانون بنائے جائیں اور پہلے سے موجود قوانین کو تبدیل کیا جائے۔ تاکہ حکومت کے خلاف 'اے آئی' کی مدد سے ایسی ویڈیوز کی تیاری نہ ہو سکے جو بھارت سرکار کی بدنامی کا باعث بنیں یا سرکار کے خلاف انہیں پراپیگنڈہ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

یاد رہے بھارت میں ووٹرز کی تعداد کے اعتبار سے جمہوریت بہت بڑی ہے۔ مگر ویسے اس کی سرکار پر اپوزیشن جماعتیں اور اقلیتیں بہت الزامات لگاتی ہیں کہ جمہوری و آئینی حقوق پر بہت سے قدغنیں ہیں اور سرکار نے اقلیتوں سمیت اپوزیشن کو دبا کے رکھا ہوا ہے۔ اقلیتوں کے حوالے سے انسانی حقوق کے اداروں کے علاوہ امریکی اداروں کی رپورٹ بھی بھارت پر تنقید کا سبب بنتی رہتی ہیں۔

اب مصنوعی ذہانت کے استعمال کو کم کرنے کے لیے قانون بنانے کی تجویز اسی پس منظر میں بتائی جا رہی ہے۔ تاہم حکومت اس طرح کے الزامات کو عام طورپر رد کرتی رہی ہے۔ ایک بڑی آبادی کا ملک ہونے کے ناطے بھارت میں انٹرنیٹ اور 'اے آئی' کا استعمال بھی زیادہ ہے۔ مگر ان نئے قوانین کی روشنی میں کچھ پابندیوں کا اہتمام ممکن ہو سکے گا۔

بھارت کی وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی نے مجوزہ قانونی ترامیم کے حوالے سے کہا ہے کہ ان ترامیم سے 'اے آئی' کے غلط استعمال کا راستہ روکا جا سکے گا۔ تاکہ 'اے آئی' کا جعل سازی کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور 'اے آئی' کے غلط استعمال کی وزارت آئی ٹی نے مثالیں بھی دی ہیں۔ کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈیپ فیک ویڈیوز اور فیک آڈیوز کے علاوہ مصنوعی میڈیا پر مبنی فیک آئٹمز وائرل ہونے کے واقعات ہو چکے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ 'اے آئی' کا غلط استعمال کرنے کی بھارت میں روایت پکی ہوتے جانا ہے۔

بھارتی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بدھ کو رات دیر سے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے اس طرح کے مواد کو غلط معلومات پھیلانے، دوسروں کی ساکھ مجروح کرنے، انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کرنے کے لیے استعمال کیے جانا، فراڈ کرنے میں اسانی پیدا ہونے جیسے واقعات کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

بھارتی انٹرنیٹ اور موبائل ایسوسی ایشن کے مطابق ہندوستان میں اس وقت 900 ملین سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین ہیں۔ چین میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے، لیکن ہندوستان امریکی ٹیک کمپنیوں کے لیے زیادہ کھلا ہے۔ اب بدلے حالات میں بھارت نے پہلی بڑی قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کے متعلقہ حکام کے مطابق یہ غلط استعمال اسلحے کی طرح خطرناک ہو سکتا ہے کہ بھارت جو پہلے ہی کئی طبقوں اور اقلیتوں میں تقسیم ہے اس میں لوگوں کی شہرت اور عزت کو 'اے آئی' کی مدد سے اچھالنا آسان ہو سکتا ہے۔

اس سے پہلے ہی بھارت سرکار آن لائن اس طرح کی اپیل کر چکی ہے کہ حکومت سے عوام تعاون کریں تاکہ حکومت کی طرف سے فیس بک یا ایکس پر کسی مواد کے سلسلے میں آٹومیٹڈ نوٹس بھجوانا آسان ہو جائے۔

بھارت سرکار کی طرف سے 'اے آئی' استعمال کے حوالے سے مجوزہ ترامیم لیبلنگ، ٹریس ایبلٹی اور جوابدہی کے لیے ایک واضح قانونی بنیاد فراہم کریں گی۔ نیز سوشل میڈیا ثالثوں کی مستعدی کی ذمہ داریوں کو مضبوط کرنے کا باعث ہونگی۔

یاد رہے افغان طالبان کے وزیر خارجہ ملا امیر متقی نے اسی ماہ بھارت کا دورہ کیا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں