انڈونیشیا:اسرائیل کے بارے میں موقف پر قائم ہیں، بین الاقوامی کھیلوں کی میزبانی جاری رہے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

انڈونیشیا نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ اپنے ہاں بین الاقوامی کھیلوں کا انعقاد کرتا رہے گا۔ انڈونیشیا کا یہ اصرار اس وقت سامنے آیا ہے جب انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی 'آئی او سی' نے دنیا بھر کی کھیلوں کی فیڈریشن سے کہا ہے کہ وہ اپنے کھیلوں کے مقابلے انڈونیشیا میں نہ رکھیں۔ کیونکہ انڈونیشیا نے جمناسٹک کے حالیہ مقابلوں میں اسرائیلی ٹیموں کے آنے پر پابندی لگائی ہے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی 'آئی او سی' نے یہ ہدایت کھیلوں سے متعلق بین الاقوامی فیڈریشنز کو بدھ کے روز جاری کی۔ جس کے ردعمل میں انڈونیشیا کی طرف سے جمعرات کے روز کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں کھیلوں کی میزبانی اور کھیلوں سے متعلق مقابلوں کا سلسلہ اسی شد و مد سے جاری رکھے گا جس طرح پہلے تھا۔

'آئی او سی' نے انڈونیشیا سے مطالبہ کیا تھا کہ جب تک انڈونیشیا یہ ضمانت فراہم نہیں کرتا کہ اس کے ہاں ہر ایک کو کھیلنے کی اجازت ہوگی اسے بھی 'آئی او سی' کے اقدامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

'آئی او سی' کے بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے دنیا کے اس سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک کے ساتھ اپنا مکالمہ روک دیا ہے کہ وہ اگلے برسوں میں اولمپک سے متعلق کسی کھیل کی میزبانی کر سکے گا۔

تاہم دوسری جانب انڈونیشیا کے یوتھ اور کھیلوں سے متعلق وزیر نے جکارتہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیلی کھلاڑیوں پر پابندی جاری رہے گی۔ نیز انڈونیشیا جنوبی ایشیائی ملکوں میں ایشیائی و عالمی سطح کے مقابلوں میں شرکت کرتا رہے گا اور ہمارے کھلاڑی دنیا میں اپنے ملک کے سفیر کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔

انڈونیشیا کی قومی اولمپک کمیٹی نے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی طرف سے ان پابندیوں پر ابھی اپنا ردعمل نہیں دیا ہے۔ البتہ یہ کہا ہے کہ ابھی اس موضوع پر بات چیت جاری ہے۔

یاد رہے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے اسرائیل کے ساتھ طرف داری کا یہ معاملہ اس وقت کیا ہے جب اسرائیلی حکومت کے انڈونیشیا کے خلاف مؤقف کو کھیلوں سے متعلق بین الاقوامی عدالت نے بھی رد کر دیا ہے۔

اس سے قبل جولائی 2003 میں بھی انڈونیشیا نے بین الاقوامی ساحلوں پر ہونے والی گیمز کی میزبانی سے خود کو دستبردار کر لیا تھا کہ اسے اندیشہ تھا کہ اس میں اسرائیلی ٹیمیں بھی شرکت کر سکتی ہیں۔

رواں سال مارچ میں انڈونیشیا نے انڈر 20 ورلڈکپ کی میزبانی سے بھی اس وقت ہاتھ دھو لیے جب اس کے دو گورنرز نے اسرائیلی فٹبالرز کی شرکت کے خلاف رائے دی۔

انڈونیشیا نے اسرائیل کے فلسطین پر قبضہ اور فلسطینیوں کے خلاف جنگی جارحانہ اپروچ کی وجہ سے اسرائیل کو مسلسل نشانہ پر رکھا ہوا ہے اور اس کے ساتھ کھیلوں میں شرکت سے گریز کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں