گھنٹوں کام دماغ کی طاقت اور تندرستی کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے!
مطالعہ اور کام کی زیادتی دماغ کے اُن حصوں پر اثر ڈال سکتی ہے جو مسئلے حل کرنے اور یادداشت برقرار رکھنے کا ذریعہ ہیں
ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ طویل گھنٹوں تک کام کرنا دماغ کی ساخت کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے، یعنی لمبا کام انسان پر بنیادی اور گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
برطانوی اخبار "ایوننگ اسٹینڈرڈ" کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، جسے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی دیکھا، محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ کام کی زیادتی دماغ کے اُن حصوں پر اثر ڈال سکتی ہے، جو مسئلے حل کرنے اور یادداشت کے لیے ذمہ دار ہیں، اس کے علاوہ یہ نفسیاتی صحت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ نتائج جرنل میڈیسن آف آکیوپیشنل اینڈ انوائرنمنٹل ہیلتھ میں شائع ہوئے، انھوں نے صحت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد پر طویل کام کے اثرات کا جائزہ لیا، جو باقاعدگی سے ہفتے میں 52 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرتے ہیں اور دماغ کے مخصوص حصوں پر اس کے اثرات کو دیکھا۔
محققین نے طویل المدت تحقیق کے ڈیٹا پر انحصار کیا جو کارکنوں کی صحت سے متعلق تھی اور دماغ کی ساخت کا جائزہ لینے کے لیے ایم آر آئی سکین کا استعمال کیا۔
حتمی تجزیے میں تقریباً 110 کارکن شامل تھے، جن میں زیادہ تر ڈاکٹر تھے۔ ان میں سے 32 افراد نے ہفتے میں زیادہ گھنٹوں تک کام کیا، جبکہ 78 نے معمول کے مطابق کام کے اوقات رکھے۔
جو لوگ ہفتے میں زیادہ گھنٹوں تک کام کرتے تھے، وہ عمر میں کافی چھوٹے تھے، کم عرصہ کام میں صرف کرتے تھے اور تعلیم میں زیادہ ماہر تھے بمقابلہ ان لوگوں کے جو معمول کے مطابق کام کرتے تھے۔
محققین میں جنوبی کوریا کی یونیورسٹی یونسی کے محققین بھی شامل ہیں، انھوں نے کہا: جو افراد کام کے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں، ان کے دماغ کے اُن حصوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئیں جو ایگزیکٹو فنکشن اور جذباتی نظم و نسق سے متعلق ہیں۔
تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ کام کے زیادہ دباؤ کا شکار گروپ میں درمیانی اور بائیں فرنٹل لوب کے فائبر کا حجم 19 فیصد حجم ان افراد کے مقابلے میں زیادہ تھا ،جن پر دبائو نہیں تھا۔ دماغ کا یہ حصہ مختلف ادراکی افعال میں اہم کردار ادا کرتا ہے، خاص طور پر فرنٹل لوب میں۔
تجزیے کے مطابق توجہ، منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی سے متعلق دیگر حصے بھی تبدیل ہوئے، اس کے ساتھ ساتھ وہ علاقے بھی متاثر ہوئے جو جذباتی عمل، خود آگاہی اور سماجی سیاق و سباق کو سمجھنے میں کردار رکھتے ہیں۔
ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ مطالعہ ابتدائی طور پر یہ ثبوت فراہم کرتا ہے کہ کام کے زیادہ دباؤ کا تعلق دماغ کی ساخت میں تبدیلیوں سے ہے، خاص طور پر اُن حصوں سے جو ادراک اور جذبات سے متعلق ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: یہ نتائج دماغی طور پر نئے اہم شواہد فراہم کرتے ہیں جو لمبے کام کے اوقات کو دماغی ساخت میں تبدیلیوں سے جوڑتے ہیں اور اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کام کے زیادہ دباؤ کے طویل مدتی ادراکی اور جذباتی اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
یہ نتائج اس بات کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ کام کے زیادہ دباؤ کے مسئلے کو ایک پیشہ ورانہ صحت کا مسئلہ سمجھ کر حل کیا جائے اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کام کی زائد گھنٹوں کو کم کرنے کے لیے کام کی جگہ پر مؤثر پالیسیاں بنانا ضروری ہے۔
روث ویلکنسن جو برطانیہ میں ادارہ حفاظت اور پیشہ ورانہ صحت کی پالیسیز اور عوامی امور کی سربراہ ہیں، انھوں نے کہا: عالمی سطح پر کیے گئے تجزیے، جنہیں عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی محنت تنظیم نےجو انجام دیا، اس سے معلوم ہوا کہ طویل گھنٹوں تک کام کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور یہ کام سے متعلق کل متوقع بیماریوں کے بوجھ کا تقریباً ایک تہائی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم سمجھتے ہیں کہ طویل کام کے گھنٹوں کی وبا سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہم طویل کام کے گھنٹوں کی ثقافت کو روزمرہ پیشہ ورانہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات میں محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ غیر ظاہر یا چھپی ہوئی توقعات کی عکاسی کرتا ہے جو ملازمین کے معاہدوں میں شامل کی جاتی ہیں۔