سوڈان سے ہمارے اعلیٰ عملے کے دو ارکان کو نکال دیا جائے گا: عالمی غذائی پروگرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے بدھ کو کہا ہے کہ سوڈان میں اس کے اعلیٰ عملے کے دو ارکان کو وزارتِ خارجہ نے جنگ زدہ ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

روم میں قائم ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ کنٹری ڈائریکٹر اور ہنگامی رابطہ کار کو "ناپسندیدہ شخصیت نامزد کیا گیا ہے اور بغیر کسی وضاحت کے 72 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کو کہا گیا ہے۔"

بیان میں کہا گیا کہ ڈبلیو ایف پی اور اقوامِ متحدہ کے سینئر حکام اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے سوڈانی حکام سے گفتگو کر رہے تھے جو "ایک اہم وقت پر" سامنے آیا۔

نیز کہا گیا، "جیسا کہ 24 ملین سے زیادہ لوگوں اور قحط سے متأثرہ طبقات کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے تو سوڈان میں انسانی ضروریات اتنی زیادہ کبھی نہیں تھیں۔ جبکہ ڈبلیو ایف پی اور اس کے شراکت داروں کو اپنی رسائی کو وسعت دینے کی ضرورت ہے تو ایسے وقت میں اس فیصلے سے ڈبلیو ایف پی قیادت کی غیر طے شدہ تبدیلیاں نافذ کرنے پر مجبور ہو گیا ہے اور اس سے ہماری کارروائیوں کو خطرہ لاحق ہے جو شدید بھوک، غذائیت کی قلت حتیٰ کہ فاقہ کشی کا شکار لاکھوں کمزور سوڈانی باشندوں کو سہارا دیتی ہیں۔"

ان افراد کے اخراج کا اعلان نیم فوجی دستوں کے مغربی علاقے دارفور کے اہم شہر الفاشر پر قبضے کے چند دن بعد کیا گیا۔

اپریل 2023 سے فوج کے ساتھ وحشیانہ جنگ میں مصروف ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے حالیہ دنوں میں شہر پر حتمی حملہ کر دیا جس میں فوج کے آخری مقامات پر قبضہ کر لیا گیا۔

الفاشر پر قبضے سے وسیع پیمانے پر ہلاکتوں کے خدشات پیدا ہوئے ہیں جو خطے کے سیاہ ترین دنوں کی یاد دلاتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سوڈان اب مؤثر طریقے سے مشرقی مغربی محور کے ساتھ تقسیم ہو چکا ہے جس میں آر ایس ایف دارفور میں متوازی حکومت چلا رہی ہے جبکہ فوج شمال، مشرق اور مرکز میں بحیرۂ نیل اور بحیرۂ احمر کے علاقوں میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں