سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے سوڈان کے شہر الفاشر پر حالیہ حملوں میں پیش آنے والی سنگین انسانی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری ’ریپڈ سپورٹ فورسز‘ پر عائد کی جا رہی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کو چاہیے کہ وہ شہریوں کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری پوری کریں، انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور 11 مئی 2023 کو دستخط شدہ ’’جدہ اعلامیے‘‘ کے مطابق بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں۔
سعودی عرب نے فریقین سے فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے اور جنگ بندی کے قیام کی اپیل کی، ساتھ ہی سوڈان کی وحدت، سلامتی اور استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ قانونی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو مسترد کیا جائے جو تنازع کو طول دے اور سوڈانی عوام کی مشکلات میں اضافہ کرے۔
دارفور کے مغربی علاقے میں واقع شہر الفاشر اس وقت سوڈان کی خانہ جنگی کے بدترین حالات سے گذر رہا ہے۔ حالیہ سیٹلائٹ تصاویر اور امریکی یونیورسٹی ییل کے ہیومن رائٹس لیب کی رپورٹوں کے مطابق وہاں اجتماعی قتل اور فیلڈ میں پھانسیوں کے واقعات کے شواہد ملے ہیں، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے انجام دیے۔
خلا سے لی گئی تصاویر میں انسانی جسموں کے حجم کے برابر ڈھیروں اور زمین پر سرخ دھبوں کو دیکھا گیا ہے جو ممکنہ طور پر خون کے نشانات ہیں۔ ان کے ساتھ مسلح گاڑیاں بھی دیکھی گئیں جو رہائشی علاقوں کی گلیوں کو بند کیے ہوئے تھیں، جہاں حالیہ ہفتوں میں بڑی تعداد میں شہری پناہ لیے ہوئے تھے۔
ییل ہیومن رائٹس لیب نے مزید نشاندہی کی کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی گاڑیاں الفاشر کے "دارجہ اولیٰ" محلے میں منظم انداز میں تعینات کی گئیں، جو گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں سے مطابقت رکھتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کارروائیوں میں فائرنگ کے لیے لیس گاڑیاں استعمال ہوئیں اور متعدد گلیوں کو بند کر دیا گیا۔