صنعا میں حوثیوں کا اقوام متحدہ کے ادارے پر دھاوا، اہم ڈیٹا اور ریکارڈ لوٹ لیا

بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں کے دفاتر پر حملوں کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی ملیشیا نے اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے دفتر پر دھاوا بول دیا۔ کارروائی کے دوران ملیشیا نے کئی اقوام متحدہ کے ملازمین کو چند گھنٹوں کے لیے حراست میں رکھا اور بعد ازاں رہا کر دیا، تاہم وہ ادارے کا اہم ریکارڈ اور پناہ گزینوں سے متعلق ڈیٹا اپنے ساتھ لے گئے۔

یمنی صحافی فارس الحمیری نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مسلح حوثی جنگجوؤں نے اتوار کے روز صنعا کی الجزائر اسٹریٹ میں واقع اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے دفتر پر قبضہ کیا۔ ان کے مطابق ملیشیا نے تین اقوام متحدہ کے ملازمین کو کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حوثیوں نے دفتر کے سامان میں چھیڑچھاڑ کی اور اہم دستاویزات کے ساتھ وہ ڈیٹا بھی قبضے میں لے لیا جس میں بے گھر افراد اور پناہ گزینوں کو دی جانے والی امداد کی تفصیلات شامل تھیں۔ اس کارروائی کے باعث دفتر اور اس کے ذیلی دفاتر کے درمیان باضابطہ رابطے معطل ہو گئے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک روز قبل حوثیوں نے یمن میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے دفتر اور اقوام متحدہ کی خوراک و زراعت کی تنظیم (فاؤ) کے دفتر پر بھی دھاوا بولا تھا۔ دونوں حملے صنعا کے جنوبی علاقے حدہ میں کیے گئے جن کی قیادت حوثی رہنماؤں محمد الوشلی اور صقر الشامی نے کی۔ یہ سب بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں کے دفاتر پر جاری حوثی خلاف ورزیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے اداروں کو حوثیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔ 2021ء سے ملیشیا انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے، اقوام متحدہ کے مقامی ملازمین کو گرفتار کر کے بعض اوقات مالی سودے، امداد یا ہتھیاروں کے بدلے رہا کرتی ہے، جسے اقوام متحدہ نے کھلے عام بلیک میلنگ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق اس وقت تقریباً 60 مقامی ملازمین حوثیوں کی حراست میں ہیں۔ ادارے کے دفاتر کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کے بعد اقوام متحدہ نے اپنے کام کے طریقہ کار پر نظرثانی شروع کر دی ہے اور اپنے سابق نائب ایلچی معین شریم کو تعینات کیا ہے تاکہ عملے کے تحفظ اور آئندہ گرفتاریوں سے بچاؤ کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں