یمن اور حوثی

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں حوثیوں اورعلاقائی مسلح جماعتوں کے درمیان غیرمعمولی تعاون کاانکشاف

رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ حوثیوں، ایران، حزب اللہ اور حماس کے درمیان موجود اتحاد اب بھی فعال ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا اور خطے کی متعدد مسلح تنظیموں کے درمیان تعاون میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ان تنظیموں میں صومالیہ کی الشباب اور "القاعدہ في شبه الجزيرة العربية" شامل ہیں جبکہ حوثیوں کے ایران، حزب اللہ اور حماس کے ساتھ روابط بھی جاری ہیں۔

اکتوبر 2025 میں سلامتی کونسل کو پیش کی گئی اس رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا صرف یمن کے اندر سرگرم نہیں بلکہ ایک علاقائی نیٹ ورک کا حصہ بن چکی ہے جو خطے میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا کہ عبدالملک الحوثی نے حماس کے ساتھ باہمی تعاون کا اظہار کیا اور جنوری 2025 میں "گلیکسی لیڈر" کے عملے کی رہائی کے عمل کو حماس کی رہائی کے ساتھ منسلک کر کے باہمی ہم آہنگی کی مثال بتایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے مشیر حوثی علاقوں میں میزائل اور ڈرون پروگراموں میں فنی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ستمبر 2024 میں لبنان میں اسرائیلی حملوں کے دوران کچھ حوثی جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔

صومالیہ کے ساتھ روابط میں توسیع کے نتیجے میں اسلحہ اسمگلنگ، تربیت اور لوجسٹک تعاون بڑھا۔ یمن میں الشباب کے جنگجوؤں کو بارودی آلات اور ڈرون ٹیکنالوجی کی تربیت دی گئی اور تقریباً 400 افراد نے فوجی تربیت حاصل کی۔ اسلحہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے صومالی ساحل سے حضرموت اور شبوہ تک پہنچایا گیا۔ صومالی حکام نے متعدد دھماکہ خیز مواد اور ڈرون کھیپیں ضبط کیں اور اسمگلنگ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا۔

رپورٹ نے حوثیوں اور القاعدہ کے درمیان زمینی تعاون کی دستاویزات بھی درج کیں۔ ان میں رابطے اور زخمی عناصر کا علاج شامل ہیں۔ القاعدہ کی مقامی تنظیم نے مختلف علاقوں میں حملے کیے، جن میں اگست 2024 کا خودکش حملہ بھی تھا۔ تنظیم نے مالی رقوم حاصل کرنے کے لیے کرپٹو کرنسی اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا۔

ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ حوثی خطے میں ہتھیاروں کے بڑے فراهم کنندہ بن چکے ہیں اور یمن سے پھیلنے والے اسمگلنگ نیٹ ورک کے ذریعے اثر بڑھا رہے ہیں۔ اپریل 2025 میں امریکی فضائی کارروائی نے ایک اسمگلنگ نیٹ ورک کے سربراہ کو ہلاک کیا۔ ٹیم نے کہا کہ یہ سرگرمیاں قرارداد 2216 (سال 2015) کی خلاف ورزی ہیں اور ظاہر کرتی ہیں کہ حوثیوں کا علاقائی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ وہ انتہا پسند گروہوں کے ساتھ تعاون سے اپنی عسکری و اقتصادی حیثیت مضبوط کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں