ایران کی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے رکن یعقوب رضا زادہ نے کہا ہے کہ تہران کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی اور خود ایجنسی پر کوئی اعتماد نہیں۔
ایرانی رکن پارلیمان کا بیان اُس وقت سامنے آیا جب گروسی نے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ ایجنسی کے ساتھ اپنے تعاون کو بہتر بنائے۔
رضا زادہ نے کہا کہ "ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا رکن ہے اور ان قوانین کے تحت کسی بھی ملک کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ غیر قانونی ہے، لیکن ایجنسی نے اپنی قانونی ذمہ داریوں کے برعکس اس بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ایجنسی کے وہ معائنہ کار جنہوں نے ایرانی ایٹمی مراکز سے متعلق معلومات مغربی اداروں تک پہنچائیں، وہی دراصل امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں کلیدی کردار کے حامل ہیں"۔
تعاون کے لیے تہران کی شرط
رضا زادہ کے مطابق "ایرانی پارلیمان نے دو اسٹریٹجک قوانین منظور کیے ہیں، ایک پابندیاں ختم کرنے سے متعلق اور دوسرا ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بارے میں، جنہیں دو سو سے زائد اراکین نے منظور کیا، اور حکومت ان پر عملدرآمد کی پابند ہے"۔
انہوں نے وضاحت کی کہ "تہران تعاون اسی صورت میں کرے گا جب اس کی ایٹمی تنصیبات اور سائنس دانوں کی سلامتی کی ضمانت دی جائے۔" تاہم انہوں نے کہا کہ "جب تک گروسی ایجنسی میں موجود ہیں، اس تعاون کا امکان کم ہے"۔
ایران سے تعاون میں بہتری کی اپیل
ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے جب گروسی نے برطانوی اخبار فائننشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کے ساتھ اپنے تعاون میں "سنجیدہ بہتری" لانا ہوگی تاکہ مغرب کے ساتھ تناؤ میں اضافہ نہ ہو۔
گروسی کے مطابق ایجنسی نے جون میں اسرائیل کی جنگ کے بعد ایران میں دس سے زیادہ معائنے کیے، لیکن انہیں فردو، نطنز اور اصفہان جیسی حساس تنصیبات تک رسائی نہیں دی گئی، جن پر امریکہ نے حملے کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ "کوئی بھی ملک یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا پابند ہے اور پھر اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے"۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے گروسی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "گروسی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، لہٰذا انہیں بے بنیاد رائے دینے سے گریز کرنا چاہیے"۔
خیال رہے کہ گذشتہ اکتوبر میں گروسی نے انکشاف کیا تھا کہ ایرانی یورینیم کے ذخائر کے قریب نقل و حرکت دیکھی گئی ہے، تاہم انہوں نے وضاحت کی تھی کہ یہ "یورینیم افزودگی کی سرگرمی" نہیں تھی۔
ایرانی حکام ماضی میں بھی بارہا ایٹمی توانائی ایجنسی پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی حملوں کی توجیہ پیش کرتی ہے، جو اُس وقت شروع ہوئے جب ایجنسی کے گورنرز بورڈ نے ایران کو جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تھا۔
-
ایران عراقی گروہوں کے ذریعے اسرائیل کے مقابلے کی تیاری کر رہا ہے : اسرائیلی نشریاتی ادارہ
تہران نے اپنی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے، خاص طور پر عراقی گروپوں کو جدید ...
مشرق وسطی -
ایران نے 'اسلامی رحمدلی' کے تحت دو فرانسیسی شہریوں کو رہا کر دیا: عراقچی
ایران نے ’اسلامی رحمدلی‘ کے تحت دو فرانسیسی شہریوں کو رہا کردیا ہے جو گزشتہ تین ...
مشرق وسطی -
ایرانی جوہری پروگرام پر بات چیت کی جائے : چین
چین نے توقع ظاہر کی ہے ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں مختلف فریق باہمی رابطوں ...
بين الاقوامى