بھارت کی تیجس لڑاکا طیاروں کے لیے 100 سے زیادہ جی ای انجن کی خریداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت کی سرکاری ایروناٹکس فرم نے جمعہ کو کہا کہ اس نے اپنے مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے گئے تیجس لڑاکا طیاروں کے لیے 100 سے زیادہ انجن حاصل کرنے کی غرض سے امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں کیونکہ روسی تیل خریدنے کی سزا کے طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی دہلی پر سخت محصولات عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اگرچہ ٹرمپ اور وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اگست میں روابط میں کشیدگی کے بعد دو طرفہ تعلقات پر زیادہ مفاہمت آمیز لہجہ اختیار کیا ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان تاحال تجارتی معاہدہ طے نہیں ہوا ہے۔

جمعہ کو ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) نے کہا، اس معاہدے کے تحت جی ای ایرو اسپیس تیجس لڑاکا کے جدید ورژن کے لیے 113 انجن فراہم کرے گا جسے ایم کے ون اے کہا جاتا ہے۔

معاہدے کی قیمت کی تفصیلات پیش کیے بغیر ایچ اے ایل نے ایکس پر ایک بیان میں کہا، "انجن کی ڈیلیوری 2027 سے 2032 تک ہو گی۔"

یہ اعلان بھارت کے 97 ہلکے جنگی طیاروں ایم کے ون اے کے لیے سات بلین ڈالر کا آرڈر دینے کے ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے۔

دنیا میں ہتھیاروں کے ایک سب سے بڑے درآمد کنندہ بھارت نے اپنی افواج کی جدید کاری کو اولین ترجیح بنایا ہے اور ملکی مصنعوعات میں اضافے کے لیے بار بار دباؤ ڈالا ہے۔

نئی دہلی متعدد ممالک بالخصوص ہمسایہ پاکستان کی طرف سے خطرات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں