سپین میں نسل پرستانہ حملوں کا 60 فیصد نشانہ لامین یامل ہیں: چونکا دینے والی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ہسپانوی اخبار ایل پیس نے انکشاف کیا ہے کہ بارسلونا کے نوجوان سٹار لامین یامل سپین میں سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ ایسے 60 فیصد حملے ان پر کیے گئے۔ معروف ہسپانوی اخبار نے سوشل میڈیا اور کھیلوں میں نسل پرستی کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ لامین یامل کو 60 فیصد نسل پرستی پر مبنی بدسلوکی ملتی ہے۔ انہیں 20 ہزار سے زائد مرتبہ "کالا " اور "مراکشی" کہا گیا ہے۔

ونیسیئس جونیئر نسل پرستانہ حملوں کا بنیادی ہدف معلوم ہوتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ اسے نسل پرستانہ حملوں میں سے 29 فیصد میں نشانہ بنایا گیا۔ 22 ستمبر وہ دن تھا جب لامین یامل کو سب سے زیادہ نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے بیلن ڈی آر کی تقریب میں شرکت کی جہاں وہ فرانسیسی شہری عثمان دیمبلی کے بعد دوسرے نمبر پر رہے۔ دیگر ستاروں کو بھی نسل پرستانہ حملوں کا سامنا رہا۔ نسل پرستی کا نشانہ بننے والے دیگر فٹ بال سٹارز میں ایمباپے، أليخاندرو بالدي، إبراهيم دياز ، إيناكی اور یلیامز شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں