’اسرائیل نے حماس کے مسلح جنگجوؤں کے بارے میں امریکہ سے کوئی وعدہ نہیں کیا‘

بنجمن نیتن یاھو کے دفتر نے حماس کے جنگجوؤں کو محفوظ راستہ دینے سے متعلق افواہوں کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ کے جنوبی شہر رفح میں موجود ان سرنگوں کے گرد بڑھتی غیر یقینی صورتِ حال کے دوران، جہاں درجنوں حماس کے جنگجو محصور بتائے جاتے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے ان افراد کی رہائی پر کوئی اتفاق نہیں کیا۔

منگل کو نیتن یاھو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے رفح میں گرفتار حماس کے مسلح افراد کی رہائی کے حوالے سے واشنگٹن سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔

لایبرمین کا الزام اور ردعمل

یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب"اسرائیل بیتونا" پارٹی کے سربراہ اَویگدور لایبرمین نے دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاھو نے امریکیوں سے رفح میں موجود "دہشت گردوں" کو حکومتی منظوری کے بغیر رہا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ لایبرمین نے اس اقدام کو "مکمل جنون" قرار دیا۔

ترکیہ اور ثالثوں کی کوششیں

ادھر حماس کے ایک رہنما نے پہلے بتایا تھا کہ ترکیہ ثالثوں کے ذریعے اس معاملے پر سرگرم ہے، تاہم اس نے مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ ایک "انتہائی حساس سکیورٹی معاملہ" ہے۔

امریکی رابطے اور اگلے مراحل

گذشتہ روز امریکی ایلچی جیرڈ کُشنر نے بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات میں رفح میں پھنسے جنگجوؤں کا مسئلہ اور غزہ کے لیے امریکی منصوبے کے اگلے مرحلے پر گفتگو کی تھی۔

امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس معاملے کا حل جنگ بندی کے وسیع تر منصوبے کی آئندہ پیش رفت کے لیے ایک امتحان ثابت ہوگا اور ممکنہ طور پر اس کا حل حماس کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی جانب محفوظ گزرگاہ فراہم کر کے نکالا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق رفح کے اس علاقے میں پھنسے حماس کے جنگجو، جو اس وقت اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے، ہتھیار پھینکنے کے بدلے دوسری جگہ منتقل ہونے پر آمادہ ہیں۔

واضح رہے کہ تقریباً 200 حماس جنگجوؤں کی یہ صورتحال اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ بندی مذاکرات کو اگلے مرحلے میں لے جانے کی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں