روزہ بالغوں کے دماغی کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر نہیں کرتا: تحقیق
بچوں اور نوعمروں کی ذہنی کارکردگی کھانے کی کھپت چھوڑنے پر ٹیسٹ میں کمزور رہی
کچھ ہلکی غذا کے اشتہارات خبردار کرتے ہیں کہ "بھوک آپ کو اپنا اصل آپ نہیں بناتی"، جو اس عام خیال کو مضبوط کرتا ہے کہ دماغ کی چستی اور کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے کھانا ضروری ہے۔
یہ پیغام مختلف ثقافتوں میں گہرائی تک رچا بسا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسلسل خوراک لینا ہی انسان کو چوکس اور فعال رکھنے کا راز ہے۔
تاہم سائنس الرٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مقررہ اوقات میں کھانا اور وقفے وقفے سے روزہ رکھنا گزشتہ دہائی میں بہت عام صحت مند عادات بن چکا ہے۔ لاکھوں لوگ اسے اپناتے ہیں تاکہ وزن کو کنٹرول کیا جا سکے اور میٹابولک صحت بہتر ہو۔
رپورٹ کے مصنف ڈاکٹر ڈیوڈ مورو جو یونیورسٹی آف اوکلینڈ میں نفسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس موضوع نے ایک اہم سوال پیدا کیا: کیا صحت کے لیے روزہ رکھنے کے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں بغیر دماغی کارکردگی کو متاثر کیے؟ اس کے لیے اب تک کا سب سے جامع جائزہ کیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ روزہ ذہنی کارکردگی پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
روزہ بنیادی طور پر
روزہ بنیادی طور پر ایک غذائی فیشن یا وقتی چال نہیں ہے۔ یہ ایک حیاتیاتی نظام کو استعمال کرتا ہے جو ہزاروں سالوں سے انسانوں کو خوراک کی کمی کے حالات کے مطابق ڈھلنے اور زندہ رہنے میں مدد دیتا رہا ہے۔
جب انسان باقاعدگی سے کھاتا ہے تو اس کا دماغ زیادہ تر گلوکوز پر انحصار کرتا ہے، جو جسم میں گلائیکوجن کی شکل میں محفوظ ہوتا ہے۔ لیکن تقریباً 12 گھنٹے بغیر کھانے کے بعد، گلائیکوجن کے ذخائر کم ہو جاتے ہیں۔
اس وقت جسم ایک ذہین میٹابولک عمل شروع کرتا ہے جس میں چربی کو کیٹونز (جیسے ایسیتو ایسٹیٹ اور بیٹا ہائیڈروکسی بیوٹیریٹس) میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو توانائی کا متبادل ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔ اس عمل کو میٹابولک لچک کہا جاتا ہے، جو ماضی میں انسانوں کی بقا کے لیے ضروری تھا اور آج متعدد صحت کے فوائد سے منسلک ہے۔
روزے کے سب سے اہم اور امید افزا اثرات میں سے ایک جسمانی عملوں کی دوبارہ ترتیب ہے۔ مثال کے طور پرروزہ آٹو فافی (Autophagy) کو متحرک کرتا ہے، جو خلیات کا ایک "صفائی عمل" ہے، جو خراب یا غیر ضروری اجزاء کو ہٹا کر دوبارہ استعمال کے لیے تیار کرتا ہے۔ یہ عمل صحت مند بڑھاپے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔
مزید برآں روزہ انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتا ہے، جس سے جسم خون میں شکر کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کر سکتا ہے اور ذیابیطس جیسے امراض کے خطرے کو کم کرتا ہے۔روزے کے دوران ہونے والی یہ میٹابولک تبدیلیاں عام طور پر غیر صحت مند کھانے کی زیادتی سے پیدا ہونے والی مزمن بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
اہم نتائج
یہ جسمانی فوائد روزہ کو ایک پرکشش انتخاب بناتے ہیں، لیکن بہت سے لوگ اسے اپنانے میں ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ کھانے کا مستقل ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی ذہنی کارکردگی متاثر ہو جائے گی۔
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ایک تجزیاتی مطالعہ کیا گیا جس میں دستیاب تمام تجرباتی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا، جنہوں نے روزہ کے دوران اور کھانے کے بعد لوگوں کی ذہنی کارکردگی کا موازنہ کیا۔ یہ مطالعہ 1958 سے 2025 تک کے سات دہائیوں پر محیط تھا۔
ڈیٹا کے تجزیے کے بعد نتیجہ واضح ہوا:
صحت مند بالغ افراد میں روزہ رکھنے اور حال ہی میں کھانے کے درمیان ذہنی کارکردگی میں کوئی قابل ذکر فرق نہیں تھا۔ افراد کی کارکردگی توجہ، یادداشت اور عملی صلاحیتوں کو ناپنے والے ذہنی ٹیسٹوں میں تقریباً برابر تھی، چاہے انہوں نے حال ہی میں کھایا ہو یا نہیں۔
اہم عوامل
تجزیاتی مطالعے کے نتائج نے تین اہم عوامل ظاہر کیے جو روزہ کے دماغ پر اثر کو بدل سکتے ہیں اور یہ درج ذیل ہیں:
عمر کا مرحلہ
مطالعے سے یہ معلوم ہوا کہ عمر سب سے اہم عامل ہے۔ بالغ افراد میں روزہ کے دوران ذہنی کارکردگی میں کوئی خاص کمی نہیں دیکھی گئی۔ لیکن بچوں اور نوعمروں کی کارکردگی اس وقت کمزور رہی جب انہوں نے کھانے کی کسی خوراک کو چھوڑ دیا۔ان کی بڑھتی ہوئی دماغی صلاحیتیں توانائی کی فراہمی میں اتار چڑھاؤ کے لیے زیادہ حساس لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پرانا مشورہ اب بھی اہم ہےکہ بچوں کو سکول جانے سے پہلے مناسب ناشتہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ ان کی سیکھنے کی صلاحیت کی حمایت ہو سکے۔
وقت کا تعین
ظاہر ہوتا ہے کہ وقت کا تعین بھی فرق ڈال سکتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ لمبے عرصے کے روزے میں روزہ اور کھانے کے بعد کی کارکردگی کے درمیان فرق کم ہوتا ہے۔ یہ اس میٹابولک تبدیلی کی وجہ سے ہو سکتا ہے جو کیٹونز کے ذریعے توانائی کی ایک مستقل فراہمی مہیا کرتی ہے جب گلوکوز ختم ہو جائے۔افراد کی کارکردگی اس وقت کمزور رہی جب ٹیسٹ دن کے آخری حصے میں لیے گئے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روزہ قدرتی روزانہ کی ریتم میں کمی کو بڑھا سکتا ہے۔
ذہنی کام کی نوعیت
ٹیسٹ کی نوعیت کا بھی اثر پڑا۔ جب ذہنی کام میں غیر متعلقہ علامات یا اشکال شامل تھیں، تو روزہ رکھنے والے شرکاء کی کارکردگی اتنی ہی اچھی تھی اور بعض اوقات تھوڑی بہتر بھی۔لیکن جب کام میں کھانے سے متعلق علامات شامل تھیں، تو روزہ رکھنے والوں کی کارکردگی کمزور ہوئی۔ بھوک عمومی ذہنی دھند نہیں پیدا کرتی، لیکن جب ذہن میں کھانے کی چیزیں ہوں تو توجہ بٹنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اہم سفارشات
زیادہ تر صحت مند بالغ افراد کے لیے نتائج یقین دہانی کراتے ہیں کہ وقفے وقفے سے روزہ یا دیگر روزہ رکھنے کے طریقے آزما سکتے ہیں بغیر ذہنی تیزی کے متاثر ہونے کے خوف کے۔لیکن یہ ضروری ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ روزہ ہر کسی کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا۔ خاص طور پر بچوں اور نوعمروں کے ساتھ احتیاط برتی جائے، جن کا دماغ ابھی ترقی کے مراحل میں ہے اور جنہیں بہترین کارکردگی کے لیے باقاعدہ خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی طرح اگر کسی فرد کا کام دن کے آخری حصے میں زیادہ چوکسی یا توجہ کا تقاضا کرتا ہو یا اگر وہ مسلسل کھانے کی ترغیب کے سامنے ہو، تو روزہ برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ظاہر ہےکچھ مخصوص گروپوں کے لیے جیسے کہ وہ جو طبی مسائل کا شکار ہیں یا جنہیں خاص غذائی ضروریات ہیں، بغیر ماہر ڈاکٹر کی ہدایت کے روزہ رکھنے کی سفارش نہیں کی جاتی۔آخر میں بہتر ہے کہ روزہ کو ایک ذاتی آلہ سمجھا جائے نہ کہ عمومی طبی نسخہ۔ اس کے فوائد اور چیلنجز ہر شخص کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔