فیصلے کی صلاحیت کے حامل "اسمارٹ" ہتھیاروں کے حوالے سے اقوام متحدہ کا انتباہ !

"حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ہتھیاروں پر انسانی گرفت کی خصوصیت برقرار رکھیں".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کے انڈر سکریٹری جنرل اور ٹکنالوجی کے شعبے کے لیے خصوصی ایلچی امندیپ سنگھ گِل نے باور کرایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بے قابو ترقی اور استعمال کا نتیجہ نا قابل قبول سطح پر خود مختار ہتھیاروں کی شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔

گِل ابوظبی میں ایک توانائی کانفرنس میں شرکت کے دوران "ٹاس" نیوز ایجنسی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ "مصنوعی ذہانت ایک طاقت ور ٹکنالوجی ہے جو موجودہ ہتھیاروں کے نظام کو تیزی سے ترقی دے سکتی ہے۔ ہم مستقبل میں ایسے نظام دیکھ سکتے ہیں جو خود مختاری کی سطح پر موجودہ خود کار ہتھیاروں سے بلند ہوں۔ اس حوالے سے ان میں بعض نظاموں کی خود مختاری میں اضافے کا واضح رجحان دیکھا جا رہا ہے"۔

اقوام متحدہ کے عہدے دار کے مطابق حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ہتھیاروں پر انسانی گرفت کی خصوصیت برقرار رکھے اور اہداف کے انتخاب کا فیصلہ کرنے والے فوجی اہل کاروں کو ذمے دار ٹھہرانے اور ان کی جواب دہی کو یقینی بنائے۔ گِل نے مزید کہا کہ "ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ یہ ٹکنالوجی عدم استحکام کا سبب نہ بنے اور بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات کو مزید پیچیدہ نہ بنائے"۔

امندیپ سنگھ گِل نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے اس مطالبے کو دہرایا کہ 2026 تک ایسے ہتھیاروں پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے جو اہداف کو تباہ کرنے کے حوالے سے آزادانہ فیصلے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گلِ کے مطابق اس حوالے سے عسکری میدان میں مصنوعی ذہانت کی ذمے دار عالمی کمیٹی سے بات چیت جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں