مغربی ممالک کی جانب سے غیر ملکی امداد میں کمی 2.26 کروڑ اموات کا سبب بن سکتی ہے !
رپورٹ کے مطابق 30 برسوں میں پہلا موقع ہے جب یورپ اور امریکہ نے ایک ہی وقت میں امداد میں کمی کی ہے
پیر کے روز فرانس پریس ایجنسی کی طرف سے حاصل کردہ ایک بین الاقوامی مطالعے کے مطابق سال 2030 تک 2.2 کروڑ افراد جن میں بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے، ایسی وجوہات کی بنا پر مر سکتے ہیں جن سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے اپنی بیرونی امداد کو کم کر دینا ہے۔
اس مطالعے میں صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی امداد میں کمی کے فیصلے کے نتائج پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، خاص طور پر امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے حوالے سے جس کے نتیجے میں 1.4 کروڑ اموات کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ نئے مطالعہ میں سرکاری ترقیاتی امداد میں مجموعی کمی کو مدنظر رکھا گیا ہے، جس کے بعد برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک نے ترقی پذیر ممالک کو امداد فراہم کرنا محدود کردیا ہے۔
بارسلونا انسٹی ٹیوٹ آف گلوبل ہیلتھ (ISGlobal) کے اسٹڈی مصنف گونزالو فانگول نے فرانس پریس کو بتایا کہ "30 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے جب فرانس، جرمنی، برطانیہ اور امریکہ نے ایک ہی وقت میں امداد میں کمی کی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "یورپی ممالک کا موازنہ امریکہ سے نہیں کیا جا سکتا، لیکن مجموعی طور پر دیکھنے پر عالمی امدادی نظام کو پہنچنے والا نقصان بہت زیادہ اور غیر معمولی ہے۔ اسپین، برازیل اور موزمبیق کے محققین کے ذریعہ کیے گئے اس مطالعہ کے نتائج پیر کے روز "دی لینسیٹ گلوبل ہیلتھ" جریدے میں شائع کیے گئے ہیں اور اب اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق ماضی میں امداد کی بدولت اموات کی تعداد میں کمی آئی ہے، خاص طور پر ایچ آئی وی، ملیریا اور تپ دق کی روک تھام کی کوششوں کے ذریعے۔ بد ترین صورت حال میں بجٹ میں بڑی کٹوتیوں کی بنیاد پر نئی تحقیق میں 2030 تک 2.26 کروڑ اضافی اموات کی پیش گوئی کی گئی ہے جن میں پانچ سال سے کم عمر کے 54 لاکھ بچے شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق بیرونی امداد میں معمولی کمی سے 94 لاکھ اضافی اموات ہو سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے صدر بننے کے کچھ عرصہ بعد ہی امریکہ کی جانب سے غیر ملکی امداد میں 80 فی صد سے زیادہ کمی کی، جس کی ترغیب ارب پتی ایلون مسک نے دی تھی۔ امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی USAID جو دنیا کی سب سے بڑی امدادی ایجنسی تھی، مالی سال 2024 کے دوران تقریباً 35 ارب ڈالر کی امداد تقسیم کرنے کے بعد تحلیل کر دی گئی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ امداد امریکہ کے بنیادی مفادات کو فروغ نہیں دیتی، خاص طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ کچھ فائدہ اٹھانے والے ممالک نے اقوام متحدہ میں امریکہ کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے روبیو نے اس بات کی تردید کی کہ امریکی امداد میں کمی کی وجہ سے کوئی اموات ہوئی ہیں، اور اس فیصلے پر تنقید کرنے والوں پر "غیر سرکاری تنظیموں کے صنعتی کمپلیکس" سے وابستہ ہونے کا الزام لگایا۔
اس خسارے کو پورا کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی اپنے مالی پابندیوں اور روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دفاعی اخراجات میں اضافے کی وجہ سے اپنی امداد میں کمی کی ہے۔ بڑے عطیہ دہندگان میں سے، جاپان نے گزشتہ دو سالوں میں اپنی امداد میں نسبتا استحکام برقرار رکھا ہے۔ کچھ امدادی پروگراموں کے فوری طور پر بند ہونے کے بارے میں مطالعے نے اشارہ کیا کہ یہ کمی عوامی پالیسیوں کو نقصان پہنچا کر ایک بڑا اثر ڈالے گی جو "بین الاقوامی تعاون کے دہائیوں کے دوران مشکل سے تیار کی گئی ہیں۔"
فانگول نے اس بات پر زور دیا کہ ممالک کو بالآخر بین الاقوامی امداد پر کم انحصار کرنا چاہیے، خاص طور پر ایچ آئی وی کے خلاف جنگ کی مالی اعانت میں۔ انہوں نے کہا "مسئلہ اس عمل کی رفتار اور سختی میں ہے۔" مطالعہ کے سربراہ مصنف ڈیوڈ راسیلہ نے نوٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ارجنٹائن کی حمایت کے لیے 20 ارب ڈالر کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی امداد "عالمی سطح پر بہت زیادہ نہیں ہے" ، انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی ساز "خطرے سے دوچار جانوں کی تعداد کا حقیقی احساس کیے بغیر بجٹ تبدیل کرتے ہیں۔" اس تحقیق کو راکفلر فاؤنڈیشن اور ہسپانوی وزارت برائے تحقیق نے فنڈ کیا۔ نیو یارک میں قائم خیراتی تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ "یہ اعداد و شمار پوری دنیا کے لئے فوری انتباہ کی علامت ہیں۔"
-
سعودی عرب کی جانب سے شام کے لیے تیل کی امداد کی پہلی کھیپ پہنچ گئی
پہلی قسط میں تقریبا 6.5 لاکھ بیرل خام تیل شامل ہے
مشرق وسطی -
میں غزہ میں امن کونسل کی صدارت کروں گا ، عالمی رہنما بھی شریک ہوں گے : ٹرمپ
غزہ کے حوالے سے سلامتی کونسل کا فیصلہ دنیا میں مزید امن کا اضافہ کرے گا
بين الاقوامى -
بنجمن نیتن یاھو نے ٹرمپ کے امن منصوبے کو غزہ کے لیے ’راستۂ امن‘ قرار دیا
سلامتی کونسل کی قرارداد فلسطینی حقوق کے استحکام کا موقع ہے:تحریک فتح کا رد عمل
بين الاقوامى