ٹرمپ کی طرف سے ہتکِ عزت کا دعویٰ، بی بی سی کا مقابلہ کرنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دائر کردہ کسی بھی قانونی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ان کی ایک تقریر کی ایڈیٹنگ پر ہتکِ عزت کے مقدمے کی ادارے کی نظر میں کوئی بنیاد نہیں، بی بی سی کے سربراہ سمیر شاہ نے پیر کو کہا۔

چھے جنوری 2021 کو جب ٹرمپ کے حامیوں نے کیپیٹل پر یلغار کر دی تھی تو بی بی سی نے ٹرمپ کی ایک تقریر کے الگ الگ اقتباسات یکجا کر دیئے تھے۔ اس ایڈیٹنگ سے یہ تأثر پیدا ہوا کہ انہوں نے تشدد کا مطالبہ کیا تھا۔ اس معاملے پر ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ وہ ممکنہ طور پر اس ہفتے بی بی سی پر پانچ بلین ڈالر تک کا مقدمہ دائر کریں گے۔

بی بی سی کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے: سمیر شاہ

انہوں نے پیر کو ایک ای میل میں بی بی سی کے عملے کو بتایا کہ ممکنہ اخراجات یا تصفیے سمیت کسی قانونی کارروائی کے امکان کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔

شاہ نے لکھا، "اس تمام معاملے میں ہم یقیناً اپنی اعانت کے استحقاق اور اپنی لائسنس فیس ادا کرنے والوں یعنی برطانوی عوام کے تحفظ کی ضرورت سے بخوبی واقف ہیں۔ میں آپ پر بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں - ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہتکِ عزت کے مقدمے کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور ہم اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔"

ایک فریقِ ثالث کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم نومبر 2024 کے امریکی انتخابات سے قبل برطانیہ میں نشر کی گئی۔ اس میں ٹرمپ کو اپنے حامیوں سے یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا، "ہم کیپیٹل تک جا رہے ہیں" اور ہم "شدت سے لڑیں گے"۔ دونوں تبصرے انہوں نے اپنی تقریر کے مختلف حصوں میں کیے تھے۔ ٹرمپ نے درحقیقت کہا تھا، حامی "ہمارے بہادر سینیٹرز اور کانگریس کے مرد و خواتین کی حوصلہ افزائی کریں گے۔"

روزنامہ ٹیلی گراف کی جانب سے بی بی سی کی ایک اندرونی لیک شدہ رپورٹ شائع کرنے کے بعد ایڈیٹنگ والا معاملہ عام ہو گیا۔

ایک آزاد مشیر کی تحریر کردہ اس رپورٹ میں بی بی سی کی خبروں پر وسیع پیمانے پر تنقید کی گئی تھی جس میں بی بی سی عربی میں اسرائیل مخالف تعصب کے دعوے اور ٹرانس جیندر افراد کے مسائل سے متعلق کہانیوں میں توازن کا فقدان شامل تھا اور اس کے نتیجے میں ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور خبروں سے سربراہ ڈیبورا ٹرنس مستعفی ہو گئے تھے۔

کوئی امریکی نشریات نہیں

رائٹرز کے ملاحظہ کردہ ایک خط کے مطابق ٹرمپ کے وکلاء نے کہا کہ اس ترمیم سے صدر کو "نیک نامی اور مالی حوالے سے زبردست نقصان پہنچا"۔

انہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ کے بجائے فلوریڈا میں مقدمہ کریں گے جہاں ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی ایک سال کی حد ختم ہو چکی ہے۔

وکلاء نے کہا ہے کہ آئین میں آزادئ اظہار کے تحفظ کے پیش نظر ٹرمپ کو امریکہ میں ایک سخت قانونی معیار کا سامنا ہو گا۔

بی بی سی کی طرف سے اس استدلال کا امکان ہے کہ یہ پروگرام نشر نہیں ہوا تھا اور امریکہ میں اس کی سٹریمنگ سروس پر دستیاب نہیں تھا اس لیے فلوریڈا کے ووٹرز شاید اسے نہ دیکھ سکے ہوں۔

بی بی سی سے اس بات کی بھی بہت زیادہ توقع ہے کہ وہ نیک نامی کو نقصان پہنچانے کے دعوے کو اس بنیاد پر چیلنج کرے گا کہ ٹرمپ نے بعد میں الیکشن جیت لیے اور یہ کہ ترمیم بدنیتی سے نہیں کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں