حماس نے بدھ کے روز غزہ کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کی ہے جس میں کم از کم ستائیس فلسطینی لقمہ اجل بن گئے۔ حماس نے اسے جنگ بندی معاہدے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ غزہ شہر اور خان یونس میں آج اسرائیلی قبضے کی جانب سے کی جانے والی ہولناک سفاکیت کی شدید مذمت کرتی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے پچیس سے زائد شہری مارے گئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ حماس کے مطابق یہ ایک خطرناک جارحیت ہے جس کے ذریعے "جنگی مجرم" بنجمن نیتن یاھو ایک بار پھر ہمارے عوام کے خلاف نسل کشی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
حماس نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اعلان کردہ وعدوں کی پاسداری کرے اور اسرائیل کو روکنے کے لیے فوری اور سنجیدہ دباؤ ڈالے تاکہ جنگ بندی کا احترام یقینی بنایا جاسکے۔
دفاعی امور کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ بدھ کے روز محصور اور تباہ شدہ غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیل کی کئی فضائی کارروائیوں میں ستائیس فلسطینی قتل ہوئے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر ستائیس شہداء میں سے چودہ صرف غزہ شہر میں شہید ہوئے۔
غزہ اور خان یونس میں بھاری جانی نقصان
تفصیلات کے مطابق محمود بصل نے بتایا کہ غزہ کے مشرقی علاقے الزيتون میں اسرائیلی بمباری سے بارہ افراد مارے گئےجن میں تین خواتین اور چھ بچے شامل تھے۔ اسی طرح الشجاعیہ کے علاقے میں دو افراد مارے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جنوبی شہر خان یونس میں اسرائیلی حملے سے تیرہ شہری جاں بحق ہوئے جن میں چار بچے اور چار خواتین شامل تھیں جب کہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے غزہ کے مختلف علاقوں میں حماس کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے مطابق یہ کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب جنوبی علاقے خان یونس میں مسلح افراد نے اسرائیلی فورسز پر فائرنگ کی۔
غزہ پٹی کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دفاعی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ گھنے آباد علاقوں میں مسلسل بمباری سے عام شہریوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا شدید خطرہ ہے۔