یورپی کمیشن کی ترجمان اور انسانی امور و بحران کے امور کی ذمہ دار حجّاج لحبیب نے یورپی پارلیمنٹ کے سامنے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کو سوڈان کے الفاشر شہر میں محصور تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار سوڈانی شہریوں کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز امدادی ٹیموں کو شہر میں داخل ہونے سے روک رہی ہیں، جس سے انسانی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے اور ہنگامی ردعمل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ سوڈان اس وقت دنیا کی بدترین انسانی آفت کا شکار ہے اور یورپی کمیشن صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ شہریوں تک انسانی امداد پہنچائی جا سکے۔
گذشتہ ہفتوں میں اور الفاشر کے سقوط کے بعد قتلِ عام، نسلی تشدد، اغوا اور جنسی حملوں کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے نشاندہی کی ہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں نسلی بنیاد پر قتل کے واقعات ہوئے ہیں۔
شہریوں کے خلاف جنگی جرائم
منگل کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سپورٹ فورسز پر سوڈان میں خاص طور پر الفاشر میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کا الزام عائد کیا۔
ستمبر میں کوآرڈینیشن فورم نے تین ماہ کی جنگ بندی، موجودہ حکومت اور سپورٹ فورسز کو جنگ کے بعد کے سیاسی منظرنامے سے خارج کرنے کی تجویز پیش کی تھی جسے فوج نے اب تک مسترد کر دیا ہے۔
اب تک ثالثی کی کوششیں اس جنگ کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں جو اپریل سنہ 2023ء میں سوڈانی فوج کے سربراہ عبد الفتاح البرہان اور ان کے سابق اتحادی محمد حمدان دقلو کے درمیان شروع ہوئی۔
الفاشر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں
سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دقلو جنہیں حمیدتی کہا جاتا ہے، نے گذشتہ 29 اکتوبر کو الفاشر میں "انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں" کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔
ملک کی 18 ریاستوں میں سے سپورٹ فورسز اس وقت دارفور کے پانچ مغربی صوبوں پر قابض ہے سوائے شمالی دارفور کے کچھ شمالی حصوں کے جو فوج کے قبضے میں ہیں، جبکہ فوج باقی 13 ریاستوں کے زیادہ تر علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے، جن میں دارالحکومت الخرطوم بھی شامل ہے۔