"غزہ معاہدے سے ملتا جلتا منصوبہ" ... وٹکوف کے روس کو دیے گئے مشوروں کی تفصیلات
امریکی ایلچی نے 14 اکتوبر کو ولادی میر پوتین کے مشیر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے روسی صدر ولادی میر پوتین کے مشیر کو یوکرین کے تنازع پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات کرنے کے طریقے پر مشورے دیے۔ یہ معلومات منگل کو بلومبرگ ایجنسی نے ایک ٹیلی فونک گفتگو کے متن کی بنیاد پر جاری کیں۔
گذشتہ مراہ14 اکتوبر کو وِٹکوف اور روسی صدر کے سفارتی مشیر یوری اوشاکوف کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں یوکرین کے تنازع کے حل کے لیے ایک مستقبل کے امن منصوبے پر بات کی گئی۔ یہ منصوبہ حال ہی میں غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کیے گئے منصوبے سے ملتا جلتا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق وِٹکوف نے مشورہ دیا کہ ٹرمپ اور پوتین کے درمیان ایک فون کال کی جائے، جس میں پوتین امریکی صدر کو اس کامیابی پر مبارک باد دیں۔ وِٹکوف نے تجویز دی تھی کہ یہ کال یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی کے وائٹ ہاؤس کے مقررہ دورے (17 اکتوبر) سے پہلے ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا "میں نے صدر کو بتایا کہ روس ہمیشہ امن چاہتا رہا ہے… ہمارے پاس غزہ کی طرح 20 نکات پر مشتمل امن منصوبہ موجود ہے۔"
اوشاکوف نے جواب میں کہا کہ پوتین ... ٹرمپ کو "اصل میں امن کا آدمی" کہیں گے۔ وِٹکوف نے مزید کہا "میرے اور آپ کے درمیان… مجھے معلوم ہے کہ امن معاہدے کے لیے کیا ضروری ہے: دونیتسک اور کہیں نہ کہیں زمینوں کا تبادلہ۔"
وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشن اسٹیفن چونگ نے کہا کہ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ وِٹکوف روسی اور یوکرینی حکام سے تقریباً روزانہ رابطے میں ہیں اور انھیں یہی ذمہ داری صدر ٹرمپ نے دی ہے۔
بلومبرگ نے اوشاکوف اور کریملن کے اقتصادی ایلچی کیریل دمتریف کے درمیان 29 اکتوبر کی ایک اور کال کا متن بھی جاری کیا۔ دمتریف نے کہا کہ وہ روسی موقف پر مبنی ایک مسودہ "غیر رسمی طور پر" امریکی حکام کو دیں گے تاکہ حتمی صورت کم از کم روسی تجاویز سے قریب تر ہو۔
امریکی ویب سائٹ "axios" کے مطابق دمتریف 24 تا 26 اکتوبر میامی میں وِٹکوف اور دیگر امریکی حکام کے ساتھ تین دن ملاقاتیں کرتے رہے۔
گذشتہ ماہ16 اکتوبر کو ٹرمپ اور پوتین کے درمیان ایک کال ہوئی جسے امریکی صدر نے "بڑی پیش رفت" قرار دیا۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے پوتین پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا تھا۔
بعد ازاں 21 نومبر کو امریکہ نے یوکرین کے لیے ایک امن منصوبہ پیش کیا جسے "روس کے لیے بہت زیادہ موافق" قرار دیا گیا۔ بعد میں اس منصوبے میں ترامیم کی گئیں تاکہ ایک "بہتر" نسخه تیار ہو، جس پر وِٹکوف ماسکو میں پوتین سے بات کریں گے۔ یہ سب ٹرمپ کی ہدایت پر ہوا۔