سائنسدانوں نے بڑھاپے کے ابتدائی علاج تک رسائی حاصل کر لی، جو چوہوں پر کامیاب ثابت ہوا

سائنسدانوں کے مطابق خون بنانے والی اسٹیم سیلز میں بڑھاپا کوئی ناقابلِ واپسی نہیں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سائنسدانوں نے ایک شاندار طبی پیش رفت حاصل کی ہے، جس کے ذریعے وہ بڑھاپے کو ختم کرنے اور جوانی واپس لانے کا طریقہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جسے انہوں نے چوہوں پر کامیابی سے آزمایا بھی ہے۔ یہ دریافت جلد ہی انسانوں پر تجربات کی راہ ہموار کر سکتی ہے اور ممکن ہے کہ بڑھاپے کے خلاف ایک ایسا علاج سامنے آئے جو جوانی کی تازگی برقرار رکھنے میں مدد دے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ خون بنانے والی اسٹیم سیلز کی کارکردگی کم ہوتی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مدافعتی نظام متاثر ہوتا ہے اور خون کی کمی (اینیمیا) اور کینسر جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

سائنس و تحقیق کی ویب سائٹ ''سائنس ایلرٹ ''کی رپورٹ، جسے'' العربیہ ڈاٹ نیٹ ''نے بھی دیکھا، اس میں بتایا گیا ہے کہ سائنسدانوں نے خون بنانے والی اسٹیم سیلز کو دوبارہ اپنی قدرتی حالت میں لانے کا طریقہ دریافت کر لیا ہے، جو عمر سے متعلق خون کی کمی اور کمزور مدافعتی نظام کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ ''متاثرہ اسٹیم سیلز'' بھی جسم کی دیگر خلیات کی طرح لائسوزومز نامی چھوٹے حصے رکھتی ہیں۔ یہ دراصل خلیے کے اندر ری سائیکلنگ مراکز ہوتے ہیں، جہاں پیچیدہ مالیکیولزجیسے پروٹین اور چکنائیوںکو بھیج کر چھوٹے قابلِ استعمال حصوں میں توڑا جاتا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق جو امریکا کی آئیکان اسکول آف میڈیسن (ماونٹ سینائی اسپتال) اور یونیورسٹی آف پیرس کے محققین نے کی، عمر رسیدہ افراد میں خون بنانے والی اسٹیم سیلز کے خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ لائسوزومز کی خرابی ہے۔

اسٹیم سیل بائیولوجی کے ماہر ساغی غفاری نے چوہوں پر تجربات کیے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ بوڑھے چوہوں کی خون بنانے والی اسٹیم سیلز میں موجود لائسوزومز حد سے زیادہ تیزابیت رکھتے ہیں اور ٹھیک طرح کام نہیں کرتے۔

اس کے علاوہ بزرگ چوہوں کی اسٹیم سیلز حد سے زیادہ فعال تھیں،جو نوجوان اسٹیم سیلز کے برعکس ہے، کیونکہ نوجوان سیلز عام طور پر پرسکون (کم فعال) ہوتی ہیں، جو انہیں طویل مدتی صحت فراہم کرتی ہیں۔

غفاری اور ان کی ٹیم ان بوڑھے اور تھکے ہوئے لائسوزومز کو ایک کیمیائی مادے کونکانامائسن A کی مدد سے پرسکون
کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس مادے نے لائسوزومز کی تیزابیت اور ضرورت سے زیادہ سرگرمی کو نارمل حالت میں واپس لایا۔

چوہوں سے خون بنانے والی اسٹیم سیلز نکال کر جب انہیں اس کیمیائی مادے سے علاج کے بعد دوبارہ جسم میں لگایا گیا تو خون بنانے کی صلاحیت آٹھ گنا بڑھ گئی۔

لائسوزومز کے مستحکم ہونے کے بعد پرانی اسٹیم سیلز نے نوجوان سیلز جیسا رویّہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔ ان کی تجدید (ری جنریشن) کی صلاحیت بہتر ہوئی اور انہوں نے خون کے خلیات مناسب مقدار میں بنانا شروع کر دیے۔

اس طرح بوڑھی اسٹیم سیلز کے اُس رجحان کو الٹ دیا گیا، جن میں وہ مخصوص خلیات زیادہ اور دیگر کم پیدا کرتی تھیں، جس سے مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔

غفاری نے کہا:ہمارے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ خون بنانے والی اسٹیم سیلز میں بڑھاپا ناقابلِ واپسی تقدیر نہیں ہے۔ پرانی اسٹیم سیلز میں دوبارہ نوجوان حالت میں لوٹنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ اپنی فطری حالت کو واپس حاصل کر سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:جب ہم نے لائسوزومز کی رفتار کم کی اور ان کی تیزابیت کو نارمل کیا، تو اسٹیم سیلز زیادہ صحت مند ہو گئیں۔ وہ زیادہ متوازن مقدار میں خون کے خلیات پیدا کرنے لگیں اور نئی اسٹیم سیلز بھی بہتر طور پر بننے لگیں۔

لائسوزومز کی ضرورت سے زیادہ سرگرمی کو ہدف بنا کر ہم پرانی اسٹیم سیلز کو دوبارہ جوان اور صحت مند حالت میں لانے میں کامیاب ہوئے، جس سے خون کے خلیات اور مدافعتی خلیات بنانے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں