روس اور یوکرین

یوکرین جنگ کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکی ایلچی کی ماسکو روانگی

یوکرینی صدر اپنی نوعیت کے پہلے دورے میں آئرلینڈ پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف آج منگل کے روز جیرڈ کشنر (ٹرمپ کے داماد) کے ساتھ ماسکو جا رہے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس نے یوکرین کی جنگ کے ممکنہ خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے پر “بڑی امید” ظاہر کی ہے۔

ویٹکوف کی ملاقات روسی صدر ولادی میر پوتین سے طے ہے، جو اب بھی جنگ کے اختتام کے حوالے سے سخت موقف رکھتے ہیں، حالانکہ یوکرین پر روسی حملے کو تین برس سے زائد ہو چکے ہیں۔

امریکی صدارتی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم اس کوشش کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے، اور وہ جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک روز قبل فلوریڈا میں یوکرینی وفد کے ساتھ “مثبت بات چیت” ہوئی، جس کے بعد اب ویٹکوف روس کا دورہ کر رہے ہیں۔

یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ فرانسیسی صدر کے ساتھ واشنگٹن کی تجویز میں شامل “انتہائی اہم اور مشکل نکات” پر بات کریں گے۔ اس سے پہلے یوکرینی مذاکرات کار رستم عمروف نے بتایا تھا کہ امریکی منصوبے کے مسودے میں “خاصی پیش رفت” ہوئی ہے، اگرچہ چند ترمیم ابھی باقی ہیں۔

واشنطن تغير مسودة خطة السلام في أوكرانيا تحت الضغوط الأوروبية.. هل تقنع بوتين؟
واشنطن تغير مسودة خطة السلام في أوكرانيا تحت الضغوط الأوروبية.. هل تقنع بوتين؟

زیلنسکی نے زور دیا کہ پائیدار سلامتی اسی وقت ممکن ہے جب روس کو جنگ کے بدلے کوئی فائدہ نہ ملے۔

زیلنسکی جو سیاسی اور عسکری دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، انھیں فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کی جانب سے ایک مضبوط حمایت حاصل ہوئی ہے۔ ماکروں نے کہا کہ یورپ کا فرض ہے کہ یوکرین کے لیے “منصفانہ اور پائیدار امن” یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے امریکی کوششوں کو سراہا لیکن کہا کہ ابھی کوئی “حتمی منصوبہ” موجود نہیں اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب یورپی ممالک با ضابطہ طور پر مذاکرات کا حصہ ہوں۔

ماکروں نے بات چیت کے بعد امریکی صدر سے بھی رابطہ کیا، جس میں ایک مضبوط اور دیرپا امن کے تقاضوں اور یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں پر گفتگو ہوئی۔

میکرون اور زیلنسکی آج ایلیسی پیلس میں (1 دسمبر - اے پی)
میکرون اور زیلنسکی آج ایلیسی پیلس میں (1 دسمبر - اے پی)

زیلنسکی پیر کی رات آئرلینڈ پہنچے جہاں وزیرِ اعظم مائیکل مارٹن نے یوکرین کے لیے “مستحکم حمایت” کا اعادہ کیا۔ زیلنسکی آج آئرلینڈ کی نئی صدر سے ملاقات اور پارلیمان سے خطاب بھی کریں گے۔ یہ کسی بھی یوکرینی صدر کا آئرلینڈ کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔

تقریباً دس روز قبل امریکہ نے یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے لیے 28 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا، جو ابتدا میں یورپی اتحادیوں کی مشاورت کے بغیر تیار ہوا اور جس میں روس کے کئی مطالبات شامل تھے۔ بعد ازاں اس میں یوکرین اور یورپی ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد ترامیم کی گئیں۔

فلوریڈا میں ہونے والی امریکی ۔ یوکرینی بات چیت کو “مثمر” قرار دیا گیا، تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ مزید کام ضروری ہے۔

صدر ٹرمپ نے بھی امید ظاہر کی لیکن کہا کہ کئیف حکومت بد عنوانی کے حالیہ اسکینڈل کے باعث مضبوط پوزیشن میں نہیں۔ دوسری جانب ماکروں کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے اس بات کی دلیل ہیں کہ ماسکو اب بھی امن کے لیے تیار نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں