غزہ کی پٹی میں شہری دفاع کے محکمے نے بتایا ہے کہ جنوبی شہر خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں پانچ فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ مرنے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
محکمے کے ترجمان محمود بصل نے بدھ کی شام فرانسیسی خبر ایجنسی کو تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں میں متعدد میزائل داغے گئے۔ اس کے نتیجے میں 5 افراد جن میں دو بچے شامل ہیں جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔ یہ حملہ خان یونس کے علاقے المواصی میں واقع ایک پناہ گزین کیمپ پر کیا گیا جو جنوبی غزہ کی پٹی میں کویتی اسپتال کے قریب واقع ہے۔
حماس تنظیم نے اسرائیلی حملے کو "واضح جنگی جرم، جنگ بندی کے معاہدے کی صریح بے حرمتی اور اس کی ذمہ داریوں سے فرار کی کھلی کوشش" قرار دیا۔
اپنے بیان میں تنظیم نے کہا کہ وہ اسرائیل کو "اس اضافی عسکری جارحیت کے تمام نتائج کی مکمل ذمہ دار" ٹھہراتی ہے۔
اپنی جانب سے اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اس کی فورسز نے یہ فضائی حملے کیے۔ فوج نے دعویٰ کیا کہ نشانہ جنوبی غزہ کی پٹی میں حماس تنظیم کا ایک رکن تھا۔ فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ "حماس تنظیم کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی" کے جواب میں کیا گیا۔
اس سے قبل بدھ کے ہی روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں فلسطینی جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں اس کے چار فوجی زخمی ہو گئے۔ واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں 10 اکتوبر سے امریکی دباؤ کے تحت طے پانے والی جنگ بندی نافذ ہے، اس کے باوجود متعدد بار خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
فوج نے بتایا کہ مشرقی رفح میں ایک کارروائی کے دوران اس کے فوجیوں کا سامنا متعدد جنگجوؤں سے ہوا جو ایک سرنگ سے نکلے تھے۔
بیان کے مطابق "اس جھڑپ کے دوران ایک فوجی شدید زخمی ہوا، جب کہ دو فوجی اور ایک نان کمیشنڈ افسر درمیانی درجے کے زخموں کا شکار ہوئے"۔ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں حماس تنظیم پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔