سعودی عرب نے امن کے قیام میں اعتماد سازی، بامقصد مکالمے اور ہمہ گیر ترقی کی اہمیت پر ایک بار پھر زور دیا ہے۔
سعودی نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی نے کہا ہے کہ محض کسی معاہدے یا سمجھوتے پر دستخط کر دینے سے پائیدار امن ممکن نہیں ہوتا بلکہ حقیقی امن ایک طویل عمل کا نتیجہ ہے جو قدم بہ قدم اعتماد سازی سے شروع ہوتا ہے، اس کے بعد جرات مندانہ اور دیانت دار مکالمہ آتا ہے اور پھر منصفانہ اور جامع ترقی کا مرحلہ ہوتا ہے جو تنازعات کے متاثرین کو تعمیر کے شراکت داروں میں بدل دیتی ہے۔
انہوں نے یہ بات بین الاقوامی امن اور اعتماد فورم سے خطاب کے دوران کہی۔ یہ فورم جمہوریہ ترکمانستان کے دارالحکومت عشق آباد میں منعقد ہوا۔ سعودی نائب وزیر خارجہ نے یہ خطاب خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی نیابت میں کیا۔
مملکت کی جانب سے خطاب میں ریاض کے اس کردار کو اجاگر کیا گیا جو احتیاطی سفارت کاری کے فروغ پر مبنی ہے۔ اس حکمت عملی کی بنیاد ثالثی، پرامن طریقوں سے تنازعات کے حل، علاقائی استحکام کی حمایت، انسانی امداد کی فراہمی اور ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے کے فروغ کے ساتھ ساتھ عالمی تنظیموں کی معاونت پر ہے۔