آسٹریلوی پولیس نے کہا ہے کہ سڈنی میں ایک یہودی مذہبی تقریب کے دوران ساحل پر موجود لوگوں پر فائرنگ کے واقعے میں والد اور اس کا بیٹا ملوث تھے۔ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 16 تک پہنچ گئی، جو ملک میں حالیہ برسوں کے سب سے خونریز حملوں میں سے ایک ہے۔
پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 50 سالہ والد موقع پر ہلاک ہو گیا، جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا ہسپتال میں نازک حالت میں ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے اپنی ویب سائٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ "پولیس نے تصدیق کی کہ فائرنگ کے واقعے میں 16 افراد ہلاک اور 40 دیگر ہسپتال میں داخل ہیں"۔
مشاهد جديدة لمنفذي الهجوم الذي استهدف فعالية يهودية على شاطئ بوندي في سيدني وأسفر عن مقتل 12 شخصا #أستراليا #العربية pic.twitter.com/416iMtclvl
— العربية (@AlArabiya) December 14, 2025
بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہلاک شدگان میں حملہ آور شامل ہیں یا نہیں۔
سڈنی کے مشہور بونڈائی ساحل پر اتوار کو یہ فائرنگ کا واقعہ یہودیوں کے ہنوکا (عید الانوار) کے جشن کے دوران پیش آیا۔
یہودیوں کی حفاظت
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے فائرنگ کے مناظر کو خوفناک، دردناک اور پریشان کن قرار دیا۔
نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلی کرس مینز نے کہا کہ یہ فائرنگ سڈنی میں یہودیوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھی۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہاکہ "یہ حملہ سڈنی میں یہودی برادری کو ہنوکا کے پہلے دن نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کیا گیا تھا۔ حکام ہر ممکن اقدامات کریں گے تاکہ ملک میں یہودیوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے"۔
یہ یاد رہے کہ آسٹریلیا میں سولہ دسمبر سنہ 2024ء کو ملبورن کے ریبولنیا علاقے میں ایک یہودی عبادت گاہ پر حملہ ہوا تھا، جب تین نقاب پوش افراد نے کھڑکی توڑ کر داخل ہوئے اور عبادت گاہ میں آگ لگا دی تھی۔