معمولی سی غلطی پرایک جاسوس نے روس کو خوفناک راز منتقل کیے

ریڈل کی جانب سے منتقل کی گئیں معلومات سے تقریباً لاکھوں آسٹریائی فوجیوں کی ہلاکت ہو سکتی تھی اور یہ آسٹریا کے خاتمے کا سبب بن سکتی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

جب پہلی عالمی جنگ کا آغاز ہوا تو آسٹریا-ہنگری کی سلطنت تین رُکنی اتحاد (Triple Alliance) میں سب سے کمزور حلقہ سمجھی جاتی تھی۔
اس وقت آسٹریائی فوج کے سپاہی مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے تھے اور ہر قوم اپنی الگ زبان بولتی تھی۔اسی وجہ سے سپاہیوں اور افسران کے درمیان زیادہ تر وقت رابطہ قائم کرنا مشکل ہوتا تھا۔

اسی تناظر میں دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر سپاہیوں میں آسٹریائی افسران کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی تھی، کیونکہ فوج میں امتیازی پالیسیاں تھیں۔

اعلیٰ فوجی عہدے اور قیادت کی پوزیشنیں صرف آسٹریائی اور بعض اوقات ہنگریائی افسران کے لیے مخصوص تھیں۔
دوسری جانب آسٹریائی فوج کو فوجی سازوسامان کی شدید کمی کا سامنا تھا اور اسے یورپ کی دیگر بڑی فوجوں کے مقابلے میں پیچھے رہ جانے والی قرار دیا گیا تھا۔

الفریڈ ریدل کی تصویر
الفریڈ ریدل کی تصویر

اس کے علاوہ پہلی عالمی جنگ کے آغاز سے پہلے ہی آسٹریائی فوج کی ساکھ ایک بے مثال جاسوسی اسکینڈل سے ہل گئی تھی، جس نے فوج کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ریدل کے جاسوسی مخالف اصلاحات

اپنی تعلیمی کامیابی اور مہارت کی بدولت الفریڈ ریدل (Alfred Redl) جو 14 مارچ 1864 کو لیووو (Lviv) میں پیدا ہوا،اس کو آسٹریا کی فوجی اسکول میں پڑھنے کے لیے اسکالرشپ ملی۔ گریجویشن کے بعد ریدل نے فوجی درجات میں تیزی سے ترقی کی اور کرنل کی رینک تک پہنچ گئے۔
اپنی ملازمت کے دوران اس آسٹریائی نوجوان کو فوجی خفیہ ادارے کے اہم فرائض سونپے گئے، جن میں جاسوسی کے خلاف کارروائیاں ،ممکنہ جاسوسوں کی نگرانی اور ملک میں تخریبی سرگرمیوں کا سدباب شامل تھا۔ جلد ہی ریدل آسٹریا میں جاسوسی مخالف کارروائیوں کے اہم چہروں میں شامل ہو گئے اور انہیں فوجی راز جیسے فوجی یونٹوں کی تعیناتی، فوجی ٹھکانوں کی معلومات، ہتھیاروں، منصوبوں اور فوجی فیصلوں تک رسائی کی اجازت بھی مل گئی۔

اپنی ملازمت کے دوران ریدل نے جاسوسی مخالف دفتر میں اہم اصلاحات متعارف کرائیں اور جدید تکنیکیں استعمال کیں، جیسے فوٹوگرافی اور آڈیو ریکارڈنگ کے آلات۔

پیٹر III کی تصویر کشی کرنے والی پینٹنگ
پیٹر III کی تصویر کشی کرنے والی پینٹنگ

روس کو معلومات فراہم کرنا

تمام ان کامیابیوں کے باوجود الفریڈ ریدل نے آسٹریا کے ساتھ غداری کرتے ہوئے روس کے حق میں کام کیا۔ بیسویں صدی کے آغاز سے ہی ریدل نے روسیوں کو آسٹریائی فوج کی تعیناتی اور نقل و حرکت کے بارے میں حساس معلومات فراہم کیں، ساتھ ہی فوجیوں کی تعداد، ہتھیاروں کی حالت اور ممکنہ جنگ کے لیے تیاری کی تفصیلات بھی دیں۔

اس کے علاوہ ریدل نے روسیوں کو فوجی ٹھکانوں، ریلوے لائنوں اور استعمال ہونے والے لوکوموٹوز کی معلومات بھی فراہم کیں۔بالکان کی پہلی جنگ کے دوران آسٹریا اور روس کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی اور دونوں کے درمیان جنگ کے خطرات پیدا ہو گئے تھے۔ اسی بحران کے دوران ریدل نے روسیوں کو آسٹریائی فوج کے بھرتی پروگرام کی دستاویزات بھی بھیجی، جس سے روسیوں کو اہم فائدہ حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ اس آسٹریائی کرنل نے پولینڈ اور یوکرین میں تعینات کئی آسٹریائی جاسوسوں کے نام بھی روس کو فراہم کیے۔

ایک پینٹنگ جس میں آسٹریا کے آرمی کمانڈر، فیلڈ مارشل فرانز کونراڈ وان ہوٹزینڈوف کو دکھایا گیا ہے
ایک پینٹنگ جس میں آسٹریا کے آرمی کمانڈر، فیلڈ مارشل فرانز کونراڈ وان ہوٹزینڈوف کو دکھایا گیا ہے

خیانت کے اسباب

مورخین الفریڈ ریدل کی آسٹریا سے خیانت کی وجوہات پر متفق نہیں ہیں۔ کچھ کے مطابق ریدل نے عیش و عشرت کی زندگی گزاری اور شدید مذہبی پابندیوں کا سامنا کیا، جس کی وجہ سے انہوں نے آسٹریا کے راز بیچ کر پیسہ کمانا شروع کیا۔

متعدد ذرائع کے مطابق ریدل نے صرف روسیوں کو بیچی گئی معلومات سے 2اعشاریہ4 ملین پاونڈز کی دولت حاصل کی۔ اس کے علاوہ کچھ ذرائع کے مطابق اس آسٹریائی کرنل نے فرانس اور اٹلی کو بھی حساس معلومات فروخت کیں۔

دوسری طرف کچھ مورخین ریدل کی جنسی رجحان کو بھی خیانت کی وجہ بتاتے ہیں۔ اس وقت ریدل ہم جنس پرست تھے اور انہوں نے یہ بات چھپائی کیونکہ آسٹریائی قوانین انہیں فوج سے نکال دیتے۔ سن 1901 میں روسیوں نے ریدل کی جنسی رجحان کا پتہ لگا لیا اور ان پر دباؤ ڈالا کہ اگر وہ جاسوسی نہ کریں تو ان کی حقیقت بے نقاب کر دی جائے۔روس کے جاسوسوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر، آسٹریائی سیکورٹی ایجنسیاں ملک میں ڈاک کی نگرانی میں اضافہ کر دیں۔

ایک معمولی نگرانی کے دوران آسٹریائی افسران کو روس سے ایک خط ملا جس میں رقم تھی اور یہ ایک شخص نیکون نیزیتاس (Nikon Nizetas) کے نام تھی۔افسران نے اس شخص کے پوسٹ آفس پر آنے کا انتظار کیا تاکہ وہ خط وصول کرے، لیکن وہ ٹیکسی میں بیٹھ کر غائب ہو گیا۔ کچھ دیر بعد آسٹریائی افسران کو وہ ٹیکسی ملی جس میں نیکون نیزیتاس بیٹھا تھا۔ گاڑی کی تلاشی کے دوران پچھلی سیٹ پر ایک چھری کا خول ملا۔ اسی دوران آسٹریائی حکام نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ انہیں اس جگہ لے جائے جہاں مسافر اترا تھا ، وہاں پہنچنے پر افسران نے اسٹاف کو ہدایت دی کہ تمام گاہکوں کو اطلاع دیں کہ چھری کا خول کھو گیا ہے۔

بعد ازاں افسران حیران رہ گئے جب انہوں نے کرنل ریدل کو یہ خول استقبالیہ عملے سے وصول کرتے دیکھا، اور یہ واقعہ آسٹریائی فوجی ادارے کے لیے ایک صدمے کی حیثیت رکھتا تھا۔جب انہیں اپنے کمرے میں اس معاملے کا سامنا کروایا گیا، تو الفریڈ ریدل نے تمام الزامات تسلیم کر لیے۔
اس کے نتیجے میں آسٹریائی فوج کے کمانڈر مارشل فرانس کونراڈ فون ہوتزندورف (Franz Conrad von Hötzendorf) نے حکم دیا کہ الفریڈ ریدل کو ایک پستول دیا جائے اور اسے اپنے کمرے میں اکیلا چھوڑ دیا جائے۔25 مئی 1913 کی صبح کے ابتدائی اوقات میں الفریڈ ریدل نے خودکشی کرتے ہوئے اپنے آپ پر گولی چلا دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں