پیرس میں لوور میوزیم پیر کے روز اس وجہ سے نہیں کھلا کیونکہ ملازمین نے تنخواہوں اور کام کے حالات کے خلاف ہڑتال کے حق میں ووٹ دیا۔ اس سے دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے میوزیم میں ہزاروں زائرین کا داخلہ متاثر ہوگیا۔ یہ ہڑتال، جس میں 400 ملازمین نے حصہ لیا اور جس کا اعلان ٹریڈ یونین کے نمائندوں نے کیا تھا، میوزیم کے لیے ایک مشکل وقت میں آئی ہے۔
میوزیم گزشتہ اکتوبر میں 88 ملین یورو (103.30 ملین ڈالر) کے زیورات کی چوری اور حالیہ بنیادی ڈھانچے کے مسائل، بشمول پانی کے رساؤ جس نے تاریخی کتابوں کو نقصان پہنچایا تھا، کے اثرات سے ابھی تک نبرد آزما ہے۔
لوور میوزیم نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ عام ہڑتالوں کی وجہ سے میوزیم فی الحال بند ہے۔ ملازمین بدھ کو ایک جنرل اسمبلی منعقد کریں گے کیونکہ منگل عام طور پر بندش کا دن ہوتا ہے۔ یہ ہڑتال اس صورت حال کے بعد ہوئی ہے جسے ٹریڈ یونینوں نے کام کے حالات کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال اور عملے کی کمی قرار دیا ہے۔ یونینوں نے ہڑتال کے اعلان کے ایک بیان میں وضاحت کی کہ ملازمین مسلسل بڑھتے ہوئے کام کے بوجھ اور متضاد ہدایات کا شکار ہیں جو انہیں اپنے فرائض کو بہترین طریقے سے انجام دینے سے روکتی ہیں۔
اس کے بعد درجنوں ملازمین نے ایک بینر اٹھایا جس پر لکھا تھا "لوور مناسب کام کے حالات، اجرت میں اضافے اور محل کی فرسودگی کے مقابلے میں عملے کی مضبوطی کے لیے جدوجہد میں ہے" وہ یہ الفاظ دہرا رہے تھے "ہم سب ساتھ ہیں، ہم سب ساتھ ہیں"۔
یونین ڈیموکریٹیک فرانکیس ڈو ٹراویل کنفیڈریشن جنرال ڈو ٹراویل اور سود یونین نے ایک جنرل اسمبلی کے اختتام پر کہا کہ تقریباً 400 ملازمین نے اتفاق رائے سے تجدید پذیر ہڑتال کے حق میں ووٹ دیا۔ یونینوں کے مطالبات میں مزید مستقل ملازمین کی بھرتی شامل ہے۔ خاص طور پر سکیورٹی اور وزیٹر سروسز کے شعبوں میں اور کام کے حالات میں بہتری لانے والے شعبوں کے ملازمین کی بھرتی کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ یونینیں یورپی یونین سے باہر کے سیاحوں کے لیے جنوری 2026 کے وسط سے داخلے کے ٹکٹ کی قیمت میں 45 فیصد اضافے کی مخالفت کر رہی ہیں جس کا مقصد تزئین و آرائش کے کاموں کی مالی معاونت کرنا ہے۔ یاد رہے لوور میوزیم روزانہ تقریباً 30,000 زائرین کو خوش آمدید کہتا ہے۔