ٹرمپ نے شام سمیت سات ملکوں کے لیے سفری پابندیوں کی فہرست جاری کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکہ کے صدر نے منگل کے روز ان ملکوں کی فہرست میں اضافہ کیا ہے جن کے سفر پر مکمل پابندی ہے۔

شہریوں کو پابند کیا گیا ہے کہ ان ملکوں کا سفر نہ کیا جائے۔ ان ملکوں میں اب شام کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا صدر ٹرمپ نے اس حکمنامے پر دستخط کر دیے ہیں جو ان پابندیوں کو سخت کرتا ہے کہ شام سمیت 7 ملکوں کے شہریوں کی امریکہ میں داخل ہونے پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ پابندیاں ہوں گی۔

ان کے لوگوں کی آمد پر زیادہ سخت سکریننگ کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کا تحفظ کیا جا سکے۔

منگل کی صبح جن ملکوں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں برکینا فاسو، مالی، نائیجیر، جنوبی سوڈان، شام اور وہ لوگ شامل ہوں گے جن کے پاس فلسطینی اتھارٹی کی جاری کردہ سفری دستاویزات ہوں گے۔

امریکی صدر کے حکمنامے کے تحت پابندی کا دائرہ لاؤس اور سیرا لیون تک بھی بڑھایا گیا ہے۔ ان دونوں ملکوں پر اس سے پہلے محدود پابندیاں تھیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق پابندیوں کے دائرے میں وسعت یکم جنوری سے نافذ العمل ہوگی۔

یہ پابندیاں اس کے باوجود عائد کی ہیں کہ شام کے لیے امریکہ نے وہ سب کچھ کیا جس سے وہ کامیابی سے آگے بڑھ سکے۔ اس دوران شامی صدر کی ماہ نومبر میں پہلی بار وائٹ ہاؤس بھی آمد ممکن ہوئی۔ جنہیں ماضی میں القاعدہ کا کمانڈر قرار دے کر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

واضح رہے صدر ٹرمپ احمد الشرع کی حمایت کرتے ہیں۔ جنہوں نے بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کر کے پچھلے سال اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک اعتدال پسند کے طور پر پیش کیا ہے جو سب ملکوں کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتا ہے اور شام کو بین الاقوامی تنہائی سے نکالنے کا خواہاں ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ نے ہفتہ کے روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ 'ٹروتھ سوشل' پر لکھا کہ امریکہ کی طرف سے سخت ردعمل دیا جائے گا۔ ان کی مراد اس حملے پر تھی جو شام میں امریکی فوجیوں پر کیا گیا

اس حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک سویلین ترجمان مارا گیا۔ شبہ ہے کہ یہ حملہ شام میں موجود جنگجووں نے کیا ہے اور امریکی فوج کے کانوائے کو نشانہ بنایا۔

صدر ٹرمپ نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے اس حملے کو خوفناک قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس نے کہا شامی شہریوں کی ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام کے رجحان کے باعث یہ پابندیاں جواز رکھتی ہیں۔

علاوہ ازیں امریکہ نے کئی اقوام کو ان پابندیوں کی زد میں آنے والی لسٹ میں شامل کیا ہے۔

جون میں صدر ٹرمپ نے ایسے ہی ایک حکمنامے پر دستخط کرتے ہوئے 12 ملکوں کے شہریوں پر پابندی عائد کی تھی کہ ان کے امریکہ میں داخل ہونے پر پابندی ہوگی۔ اب ان 12 ملکوں کے علاوہ مزید 7 ملکوں کو شامل کیا گیا ہے۔

پابندی عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہوگیا تھا کہ اپنے لوگوں کو بیرونی دہشت گردوں سے بچایا جائے اور سلامتی کے لیے خطرات کو روکا جائے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ پابندیاں امیگرنٹس اور نان امیگرنٹس پر بھی ہوں گی ۔ حتیٰ کہ سیاحوں ، طلبا اور کاروباری لوگوں پر بھی ہوں گی۔ جبکہ پہلے سے جن 12 ملکوں پر پابندیاں ہیں وہ بھی اپنی جگہ برقرار رہے گی۔

ٹرمپ نے اس موقع پر اعلان کیا ہے کہ مزید 15 ملکوں پر بھی جزوی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ان میں نائیجیریا بھی شامل ہے جسے صدر ٹرمپ نے پہلے ہی سکروٹنی کے نیچے رکھا ہوا ہے۔ نومبر کے شروع میں نائیجیریا میں مسیحیوں کا علاج کرنے والوں کو حملے کی دھمکی دی گئی تھی۔

جبکہ نائیجریا کا دعویٰ اس سے مختلف ہے۔ صدر ٹرمپ نے جب سے جنوری میں اقتدار سنبھالا ہے وہ ترجیحی بنیادوں پر امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے جارحانہ انداز رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں وفاقی ایجنٹس کو امریکہ کے بڑے شہروں میں بھیجا ہے۔ تاکہ جلا وطنی اختیار کرنے آنے والے لوگوں کو روکا جائے۔ خصوصا امریکہ و میکسیکو کی سرحد کراس کر کے آنے والوں کو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں