ایران کامیابی سے حزب اللہ کو اسلحہ اور رقوم اسمگل کر رہا ہے : امریکی عہدے دار
اسرائیلی ذمے داران کے نزدیک حزب اللہ کے ساتھ تصادم نا گزیر ہو چکا ہے
ایک امریکی عہدے دار نے "العربیہ" کو بتایا ہے کہ واشنگٹن کے نزدیک لبنانی فوج اپنی استطاعت کے مطابق بہترین کوششیں کر رہی ہے، تاہم اس کے باوجود تشویش کی ایک وجہ موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ... لبنان میں حزب اللہ تک اسلحہ اور رقوم کی اسمگلنگ میں کامیاب ہو رہا ہے جس کے باعث امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
عہدے دار نے یہ بھی کہا کہ ہماری اولین ترجیح تمام فریقوں کے درمیان مکالمے کی سرپرستی اور اس کی نگرانی ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے شدہ طریقہ کار کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے اور ساتھ ہی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں کرنا ہیں۔
اس تناظر میں انہوں نے اعلان کیا کہ امریکی فریق لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے شدہ طریقہ کار پر قائم ہے اور عہدے دار کے مطابق یہ طریقہ کار لبنان کو زمینی مطالبات سے نمٹنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل، حزب اللہ کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم کی تیاری کر رہا ہے، کیونکہ دریائے لیطانی کے جنوب میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی مقررہ آخری تاریخ سال کے اختتام پر قریب آ رہی ہے۔ یہ بات اسرائیلی اخبار "یدیعوت آحرونوت" نے بتائی۔
اخبار نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے بتایا کہ حزب اللہ کے ساتھ تصادم اب ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ اسرائیلی قیادت کا ماننا ہے کہ یہ جماعت “تیزی سے خود کو سنبھال رہی ہے اور اپنی طاقت میں اضافہ کر رہی ہے”۔
اخبار نے یہ بھی ذکر کیا کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو آگاہ کیا ہے کہ لبنانی فوج مطلوبہ ذمہ داری ادا نہیں کر رہی۔
یاد رہے کہ نومبر 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کے نتیجے میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کا خاتمہ ہوا تھا۔ تاہم اسرائیل نے لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ تل ابیب کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد جنگ میں بھاری نقصانات کے بعد حزب اللہ کو اپنی صلاحیتیں دوبارہ تعمیر کرنے سے روکنا ہے۔
جنگ بندی کے معاہدے میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے، حزب اللہ کے دریائے لیطانی کے شمال کی جانب انخلا اور بالآخر پورے لبنان میں اسے غیر مسلح کرنے کی شقیں شامل تھیں۔ نیز اس میں اسرائیلی فوج کے اُن مقامات سے انخلا کی بھی شرط رکھی گئی تھی جہاں اس نے حالیہ جنگ کے دوران پیش قدمی کی تھی۔
اس کے باوجود اسرائیل لبنانی سرزمین کے اندر پانچ تزویراتی مقامات پر اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ادھر حزب اللہ اسلحہ چھوڑنے سے انکار کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ معاہدہ صرف لیطانی کے شمال میں واقع سرحدی علاقے سے متعلق ہے۔ یہ بات خبر رساں ادارے 'فرانس پریس' نے بتائی۔
اگست میں لبنانی حکام نے معاہدے پر عمل درآمد کے تحت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا ایک منصوبہ منظور کیا تھا، جس پر لبنانی فوج نے عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ سال کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔