واشنگٹن کو خوش کرنے کیلیے ترکیہ کی پوتین سے روسی S-400 سسٹم واپس لینے کی درخواست
ترکیہ تقریباً ایک دہائی قبل خریدےگئے روسی فضائی دفاعی نظام S-400 سے دستبردار ہونے پر غور کر رہا ہے، اس نے یہ قدم امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور F-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں واپس آنے کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔
یہ اقدام ترکیہ کی جانب سے واشنگٹن اور نیٹو کے ساتھ زیر التواء دفاعی امور کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوششوں کے سلسلے میں ہے، جیسا کہ بلومبرگ ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے گزشتہ ہفتے 13 دسمبر کو ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے اس معاملے پر براہِ راست تبادلہ خیال کیا، جو کہ دونوں ممالک کے اہلکاروں کے درمیان اس متنازعہ نظام کے مستقبل کے حوالے سے غیر رسمی مذاکرات کی ایک سلسلے کے بعد ہوا۔
بلومبرگ کے باخبر ذرائع کے مطابق انقرہ S-400 کے سلسلے میں کئی ممکنہ راستے زیر غور رکھتا ہے، جن میں یہ نظام روس کو واپس بھیجنا، مکمل طور پر تباہ کرنا یا اسے براہِ راست امریکی کنٹرول میں دینا شامل ہے، تاکہ واشنگٹن اور نیٹو کی جانب سے اٹھائے جانے والے سکیورٹی خدشات دور کیے جا سکیں۔
رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ترکیہ کی دفاعی صنعت پر امریکی پابندیوں کو ختم کرنا اور ترکی کی F-35 پروگرام میں شراکت بحال کرنا ہے، جس سے 2019 میں اس وقت استثنیٰ دے دیا گیا تھا، جب ترکیہ نے S-400 کے معاہدے کو مکمل کرنے پر اصرار کیا۔
دوسری جانب کرملن نے اس بات کی تردید کی کہ پوٹن اور اردگان کی ملاقات کے دوران ترک حکام نے S-400 کے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کوئی رسمی درخواست دی ہو، جبکہ ترک حکام نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور بلومبرگ کی جانب سے "حساس مشاورت" کے طور پر بیان کیے جانے والے معاملے پر خاموشی اختیار کی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کی جانب سے نئی دباؤ ڈالے جا رہے تھے۔ ٹرمپ نے پہلے کے ادوار میں انقرہ کے ساتھ اختلافات کے حل کے لیے کچھ حد تک کھلے رویے کا اظہار کیا تھا، حالانکہ واشنگٹن کی دفاعی اور قانون ساز دونوں اداروں میں اس پر سخت مخالفت پائی جاتی تھی۔
ترکیہ نے 2017 تا 2019 کے درمیان روسی نظام S-400 تقریباً 2اعشاریہ5 ارب ڈالر کی مالیت سے خریدا تھا اور یہ معاہدہ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ شدید تناؤ کا باعث بنا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ روسی نظام کا استعمال F-35 لڑاکا طیاروں اور ان کی حساس ٹیکنالوجیز کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔اگرچہ یہ نظام ترکیہ کو منتقل کر دیے گئے تھے، لیکن اب تک عملی طور پر فعال نہیں کیے گئے، جس کی وجہ امریکی دباؤ اور پابندیاں ہیں۔