بچوں اور نوجوانوں پر مختصر ویڈیوز کے اثرات بارے سائنسی ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق مختصر ویڈیوز بچوں کو بطور صارف مدِنظر نہیں رکھتیں۔
مختصر ویڈیوز آن لائن ہلکی تفریح سے بڑھ کر بچوں اور نوجوانوں کی زندگیوں کا ایک لازمی حصہ بن گئی ہیں، لیکن یہ ویڈیوز دماغ کے لیے گہرے مسائل اور نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے فوری طور پر ان پر توجہ دینی چاہیے۔ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور یوٹیوب شارٹس جیسی پلیٹ فارمز سینکڑوں لاکھوں نوجوانوں، نوعمروں اور 18 سال سے کم عمر بچوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں اور بچے روزانہ کئی گھنٹے ان ویڈیوز کو دیکھنے میں گزار دیتے ہیں، جبکہ ان ویڈیوز کے ممکنہ ذہنی اثرات پر تنازعہ بھی بڑھ رہا ہے۔
امریکی ویب سائٹ The Conversationکی رپورٹ کے مطابق اور جسے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی دیکھا، ان پلیٹ فارمز پر مختصر ویڈیوز کا ڈیزائن تیز رفتار اور طویل اسکرولنگ سیشن کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جس پر چھوٹے صارفین کا کنٹرول مشکل ہوتا ہے۔ یہ ایپس کبھی بھی بچوں کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن نہیں کی گئیں، حالانکہ بہت سے بچے انہیں روزانہ اکثر اکیلے استعمال کرتے ہیں۔
خود پر قابو پانے میں مشکلات
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پلیٹ فارمز بچوں کی شناخت بنانے، دلچسپیوں کو بڑھانے اور دوستیاں قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ لیکن کچھ بچوں کے لیے مواد کے مسلسل بہاؤ سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے، خود پر قابو پانے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے اور انہیں غور و فکر یا مفید تعامل کے لیے وقت کم ملتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مختصر ویڈیوز جو عام طور پر 15 سے 90 سیکنڈ کی ہوتی ہیں، دماغ کی تجدید کی خواہش کو بھانپنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔ ہر اسکرول پر کچھ نیا ملتا ہے، جیسے لطیفہ، مذاق یا حیرت انگیز مناظر اور دماغ کا انعامی نظام فوراً ردعمل دیتا ہے۔
The Conversationکی رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیوز بہت کم رکتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ قدرتی وقفے ختم ہو جاتے ہیں جو توجہ کو دوبارہ مرکوز کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ اس سے خود پر قابو پانے اور مسلسل توجہ دینے کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔
2023 میں کیاگیا ایک تجزیاتی مطالعہ جس میں 71 تحقیقاتی مطالعات اور تقریباً 100000 شرکاء شامل تھے، سے یہ معلوم ہوا کہ مختصر ویڈیوز کے زیادہ استعمال اور خود پر قابو پانے کی صلاحیت میں درمیانی تعلق پایا گیا اور توجہ برقرار رکھنے کی مدت کم ہوئی۔
آج بہت سے بچے ایسے اوقات میں اسکرین دیکھتے ہیں ،جب انہیں آرام کرنا چاہیے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تیز روشنی میلاٹونن کے اخراج میں تاخیر کرتی ہے، یہ ہارمون نیند کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے انہیں سونے میں دشواری ہوتی ہے۔تیز رفتار مواد کے ساتھ آنے والے شدید جذباتی اتار چڑھاؤ دماغ کو پرسکون ہونے نہیں دیتے۔
ایک حالیہ مطالعہ میںیہ سامنے آیا ہے کہ مختصر ویڈیوز کے زیادہ استعمال سے بعض نوعمر بچوں میں نیند کے مسائل اور معاشرتی اضطراب بڑھ سکتے ہیں۔نیند کے مسائل موڈ، برداشت اور یادداشت پر اثر ڈال سکتے ہیں اور ایک ایسا چکر پیدا کر سکتے ہیں۔ جسے تناؤ یا سماجی دباؤ کا سامنا کرنے والے بچے توڑنا مشکل محسوس کرتے ہیں۔نیند کے علاوہ، مسلسل دکھائے جانے والے ہم عمروں کی تصاویر اور خوشنما طرز زندگی کے مناظر موازنہ بڑھا سکتے ہیں۔
قبل از بلوغت بچوں کو مقبولیت شکل یا کامیابی کے غیر حقیقی معیار سمجھ آ سکتے ہیں، جس سے خود اعتمادی کم ہو سکتی ہے اور اضطراب بڑھ سکتا ہے۔ یہ سب سوشل میڈیا کی دیگر اقسام پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
The Conversationکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر تحقیقات نوعمر بچوں پر مرکوز ہیں، لیکن چھوٹے بچے خود پر قابو پانے میں کم پختہ اور شناخت کے حوالے سے کمزور ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ تیز رفتار مواد سے زیادہ جذباتی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔بچوں کے لیے غیر مطلوب مواد کے سامنے آنا خطرات بڑھا سکتا ہے اور مختصر ویڈیوز کی ایپس کا ڈیزائن یہ امکان بڑھا سکتا ہے۔ چونکہ یہ ویڈیوز فوری دکھائی جاتی ہیں اور خودکار طور پر ایک کے بعد دوسری چلتی ہیں، بچے تشدد، خطرناک چیلنجز یا جنسی مواد کے سامنا کر سکتے ہیں ۔
اس سے پہلے کہ انہیں سمجھنے یا توجہ ہٹانے کا موقع ملے۔طویل ویڈیوز یا روایتی سوشل میڈیا پوسٹس کے برعکس مختصر ویڈیوز تقریباً کوئی سیاق و سباق، وارننگ یا نفسیاتی تیاری کا موقع نہیں دیتیں۔ صرف ایک تیز اسکرول طنز سے پریشان کن مناظر میں اچانک تبدیلی کر سکتا ہے، جو بڑھتے ہوئے دماغ کے لیے خاص طور پر صدمے کا باعث بنتی ہے۔
-
ماہر صحت کے مطابق دل کو مضبوط بنانے والے 10 بہترین بیج
ڈاکٹر چوپڑا بیجوں کے اہم صحت بخش فوائد اجاگر کرتے ہیں اور بعض بیج اعتدال سے ...
ایڈیٹر کی پسند -
امریکہ میں برفانی طوفان، کرسمس کی تعطیلات میں ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ
قومی محکمہ موسمیات نے عظیم جھیلوں کے علاقے میں دن کے وقت برفباری کی پیش گوئی کر دی
بين الاقوامى -
2026 میں مطلوبہ بہترین مہارتیں کیا ہوں گی؟ ایک جامع گائیڈ
جدید لیبر مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کے آلات کے استعمال کی اہمیت پر اتفاق
بين الاقوامى