کانگریس میں ڈیموکریٹس کی مقبولیت میں تاریخی کمی: سروے
وسط مدتی انتخابات قریب آتے ہی ڈیموکریٹک پارٹی پر دباؤ بڑھ رہا
یونیورسٹی ’’کوئنی پیاک‘‘ کے ایک قومی رائے عامہ کے سروے نے امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کارکردگی کی تائید میں شدید اور بے مثال کمی دکھائی ہے۔ اس نے 2009 میں یونیورسٹی کی جانب سے ان سروے کے آغاز کے بعد سے اب تک کی کم ترین سطح ریکارڈ کی ہے۔
11 اور 15 دسمبر کے درمیان کیے گئے سروے کے ڈیٹا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کارکردگی سے اتفاق کرنے والوں کی شرح 18 فیصد رہی اور اس کے مقابلے میں 73 فیصد نے مخالفت کی ہے۔ یوں کارکردگی کی درجہ بندی کا خالص سکور منفی 55 پوائنٹس رہا۔ اس تنزلی نے پارٹی کے بنیادی ووٹرز کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے کیونکہ اپنے نمائندوں کی کارکردگی پر ڈیموکریٹک ووٹرز کے اطمینان کی شرح گزشتہ اکتوبر میں 58 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 42 فیصد رہ گئی ہے۔
اس کے برعکس کانگریس میں ریپبلکنز نے 35 فیصد تائید حاصل کرلی ہے جو مجموعی تشخیص میں اب بھی کم شرح ہے۔ ان اعداد و شمار کے باوجود سروے نے ایک تضاد کی نشاندہی کی ہے کیونکہ 47 فیصد شرکا نے ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کو ترجیح دی جبکہ 43 فیصد نے ریپبلکنز کے حق میں رائے دی۔
یہ اعداد و شمار ووٹرز کے رجحانات میں فرق کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان نتائج نے پارٹی سطح پر تنقید پیدا کردی ہے جہاں ریاست فلوریڈا سے ریپبلکن نمائندے بائرن ڈونلڈز نے ڈیموکریٹک پارٹی کے موجودہ رجحانات کو جمہوری سوشلزم جو کمیونزم کے قریب ہے قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں ان پالیسیوں نے ان کی مقبولیت میں بگاڑ پیدا کیا ہے
مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اعداد و شمار، جو میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے، 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے قریب آتے ہی ڈیموکریٹک پارٹی پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کی عکاسی کر رہے ہیں۔