جرمن چانسلر فریڈرک میرٹس کی شائستگی قابل تعریف ہے: ماہرآداب
ضابطہ اخلاق اور شائستگی کی جرمن ایسوسی ایشن کے صدر نے میرٹس کے اخلاق و آداب کو سراہا
ضابطہ اخلاق اور شائستگی کی جرمن ایسوسی ایشن کے سربراہ کلیمینز گراف فون ہوئیس نے جرمن چانسلر فریڈرک میرٹس کی شائستگی اور حسنِ سلوک کی تعریف کی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ آیا 70 سالہ میرٹس ایک چانسلر کے طور پر شائستگی سے کام لیتے ہیں، ہوئیس نے جرمن اخبار ’’ رائینیشے پوسٹ ‘‘ کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ میں انہیں باضابطہ ایٹیکیٹ کے اصولوں سے مکمل طور پر واقف دیکھتا ہوں۔ اس کا تعلق ان کے پیشہ ورانہ ماضی سے بھی ہے جہاں اعلیٰ درجے کے آداب پر بہت توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کو یادوں میں رہنے کے لیے کچھ سختی کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس کے مالک ہیں۔
واضح رہے میرٹس زاورلینڈ ریاست کے شہر بریلون میں پیدا ہوئے، وہ جج اور وکیل رہے، کئی کمپنیوں کے مشاورتی بورڈ کے ممبر رہے اور امریکی سرمایہ کاری کمپنی "بلیک راک" کی جرمن شاخ کے سربراہ رہے ہیں۔
ایٹیکیٹ کے ماہر نے ان ٹائیوں کی بھی تعریف کی جو جرمن چانسلر عوامی مواقع پر پہنتے ہیں اور جن پر جانوروں کی تصاویر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ انہیں اچھا سمجھتے ہیں جب تک کہ ہاتھی اپنی سونڈ اٹھائے رکھے اور اسے لٹکا ہوا نہ چھوڑے۔ جب تک جانور دیکھنے والے کے لحاظ سے دائیں طرف دیکھ رہے ہوں تاکہ یہ معاملہ پیچھے کے بجائے آگے کی طرف حرکت جیسا معلوم ہو تو میں اس کی تائید کرتا ہوں۔
ہوئیس نے یہ بھی کہا کہ وہ نوٹ کر رہے ہیں کہ جرمن پارلیمنٹ میں ارکان کے درمیان بحث اب زیادہ بلند آواز، زیادہ جذباتی اور کارکردگی پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آخر میں اہمیت صرف انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے کلپس کی رہ گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ عمل حسنِ سلوک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حسنِ سلوک بلند پایہ احتیاط، ضبطِ نفس اور توازن کا معاملہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں پارلیمنٹ میں مزید توازن کی ضرورت ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کی میں کمی محسوس کر رہا ہوں۔