پاکستان یو اے ای کےایک ارب ڈالرکےذخائرکوسرمایہ کاری میں تبدیل کرناچاہتا ہے:نائب وزیراعظم

متحدہ عرب امارات اس رقم سے پاکستانی کمپنیوں کے حصص حاصل کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان متحدہ عرب امارات کی مالی اعانت کا کچھ حصہ طویل مدتی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ بیرونی قرضہ جات کا بوجھ کم ہو سکے، یہ بات نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہی۔ انہوں نے ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے دورۂ اسلام آباد کے دوران ان سے مذاکرات کیے۔

ڈار نے کہا، ایک بلین ڈالر کے ذخائر کو ایکویٹی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے پاکستان نے متحدہ عرب امارات سے مذاکرات کیے۔ اس میں ممکنہ طور پر فوجی فرٹیلائزر گروپ سے منسلک کمپنیوں کے حصص شامل ہیں۔ اس اقدام سے فنڈز کے اس حصے پر پاکستان کی دوبارہ ادائیگی کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔

متحدہ عرب امارات حالیہ برسوں میں پاکستان کا ایک اہم مالی معاون رہا ہے جس نے ملک کے مرکزی بینک کو تین بلین ڈالر کے ذخائر فراہم کیے ہیں۔ یہ اقدام ملک کے بیرونی مالیات کو مستحکم کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مالی اعانت حاصل کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔

سال کے اختتام کی ایک بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ڈار نے کہا کہ پاکستان نے پہلے ہی ایک بلین ڈالر کی پہلی قسط کے حوالے سے متحدہ عرب امارات سے مذاکرات شروع کر دیے تھے لیکن اب اسلام آباد اس مختصر مدتی قرضے کو سرمایہ کاری سے بدل دینا چاہتا ہے۔

ڈار نے کہا، "وہ کچھ حصص حاصل کریں گے اور یہ ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔" نیز انہوں نے بتایا کہ 31 مارچ تک لین دین مکمل کرنے کے لیے تبادلۂ خیال جاری ہے۔

ڈار نے کہا، فوجی فاؤنڈیشن گروپ اس عمل کی قیادت کر رہا ہے اور ارادہ ہے کہ اس معاہدے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فوجی سے منسلک اور دیگر کمپنیاں جزوی طور پر سرمایہ کاری سے دستبردار ہو جائیں یا اس میں کمی کر دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کی قیادت سے گفتگو کے دوران جنوری میں دو بلین ڈالر الگ جاری کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا اور اسلام آباد نے پیغام دیا کہ قرض بار بار جاری کرنے سے بہتر ہو گا کہ اسے سرمایہ کاری میں تبدیل کر دیا جائے۔

اس معاملے پر تبادلۂ خیال النہیان کے دورے کے دوران کیا گیا جسے ڈار نے خوشگوار قرار دیا اور مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کے اثرات کو وسعت دینے پر آمادگی ظاہر کی۔

ادائیگیوں کے توازن کا دباؤ بہتر طورپر سنبھالنے کے لیے پاکستان دوست ممالک سے بار بار رقم کی اقساط پر انحصار کرتا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ طریقہ قلیل مدتی مالی سہولت تو فراہم کرتا ہے لیکن اس سے قرض کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے جب تک اس کی جگہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری نہ کی جائے۔

پاکستان نے سعودی عرب سے پانچ اور چین اور متحدہ عرب امارات سے چار بلین ڈالر حاصل کیے جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا اور آئی ایم ایف کی شرائط کو ایسے وقت میں پورا کرنے میں مدد ملی جب اس کا بیرونی کھاتہ شدید دباؤ کا شکار تھا۔

ڈار نے کہا، اپنی معیشت کو مستحکم اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے عارضی مالی اعانت سے ہٹ کر پاکستان اب اپنی توجہ طویل مدتی سرمایہ حاصل کرنے کی طرف مرکوز کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں