بھارت:مسیحیوں اورمسلمانوں کےخلاف حالیہ پرتشدد واقعات پرپاکستانی دفترخارجہ کااظہارتشویش
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھارت میں حالیہ دنوں میں مسیحی عوام کے گرجا گھروں اور مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا کے غنڈہ گردی کے واقعات کی مذمت کی ہے اور اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
ترجمان نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ بھارت میں اقلیتی برادریوں کو تحفظ دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
رواں ماہ کرسمس کے موقع پر بھارت کے مختلف شہروں اور قصبات میں مسیحیوں کی کرسمس کی تقریبات کو سبوتاژ کرنے کی ہندو انتہا پسندوں نے کوشش کی اور کئی جگہوں پر کرسمس کی تقریبات کو الٹ دیا۔
ان واقعات نے مسیحی برادری کو کرسمس کے موقع کے باوجود بھارت میں غیر معمولی خوف اور تشویش میں مبتلا کر دیا۔
ہندو انتہا پسندوں کی غنڈہ گردی کی عکاسی کرنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کے ایک رہنما اینجو بھرواگا ڈبل پور نامی شہر میں ایک نابینہ مسیحی خاتون پر اس وقت حملہ کر رہے ہیں جب وہ کرسمس کی تقریب میں موجود تھیں۔
'کرسچن واچ ڈاگ' نامی تنظیم 'اوپن ڈورز انٹرنیشنل' نے کہا کرسمس کے دنوں میں جگہ جگہ مسیحی برادری اور ان کی تقریبات کو نشانہ بنایا گیا اور مختلف ریاستوں میں مجموعی طور پر 60 سے زائد حملے کرسمس تقریبات میں کیے گئے ۔ یہ سب حملے ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے تھے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے پیر کے روز کہا ہمیں بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و تشدد کے اس سلسلے پر گہری تشویش ہے۔ حتیٰ کہ کرسمس کے موقع پر بھی توڑ پھوڑ کے واقعات ہوئے جو انتہائی مذمت کے لائق ہیں۔
ترجمان نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی بھارتی سرکار کی حمایت میں مہمات کا بھی ذکر کیا جس کے تحت مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کرنا اور زد و کوب کرتے کرتے ہلاک کر دینے کے واقعات شامل ہیں۔ خاص طور پر محمد اخلاق کا معاملہ ابھی تازہ واقعات میں سے ایک ہے۔ جس میں بھارتی سرکار نے مجرموں کو عدالتی کٹہرے میں لانے سے بچانے کے لیے ہندو انتہا پسند کی بھرپور مدد کی اور مسلمانوں میں خوف اور بیزاری کو مزید گہرا کیا۔
50 سالہ محمد اخلاق کو بھارتی ریاست اترپردیش میں ہندوؤں کے ایک ہجوم نے زد و کوب کرتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے گائے کا گوشت اپنے گھر میں ذخیرہ کر رکھا تھا۔ محمد اخلاق کے اہلخانہ نے گائے کا گوشت ذخیرہ کر کے کھانے کے الزام کی تردید کی ہے۔
ادھر اترپردیش کی ریاستی حکومت نے مقامی عدالت سے کہا ہے کہ مسلمان محمد اخلاق کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف الزامات کو ختم کریں اور انہیں سزا نہ دی جائے۔
دفتر خارجہ پاکستان کی طرف سے مزید کہا گیا کہ اس طرح کے پرتشدد واقعات اور حملے بدقسمتی سے بھارت میں ایک طویل عرصے سے جاری ہیں۔ اس لیے بین الاقوامی ںرادری کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ اپنے ہاں اقلیتوں کے خلاف مہماتی تشدد کے واقعات روکے۔
امریکہ کی دفتر خارجہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی سرکار نے اقلیتوں کے تحفظ کے لیے انتہائی نا ہونے کے برابر اور ناقابل بھروسہ اقدامات کیے ہیں۔ اس لیے اقلیتوں کے لیے بھارت میں سازگاری کے حالات پیدا نہیں ہو سکے۔
'ایمنسٹی انٹرنیشنل' اور 'ہیومن رائٹس واچ' نے بھی مودی سرکار کی سرپرستی میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے واقعات پر تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے مودی سرکار کو بھی ان واقعات میں ذمہ دار ٹھہرایا۔
بھارت میں متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں بھی کئی دہائیوں سے بھارتی فوج کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے اور اب تک تقریباً ایک لاکھ کے لگ بھگ کشمیریوں کو بھارتی فوج نے شہید کیا ہے۔
اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر میں عام کشمیری کی زندگی اور حقوق انتہائی تشویشناک صورتحال سے دوچار ہیں۔
-
پاکستان یو اے ای کےایک ارب ڈالرکےذخائرکوسرمایہ کاری میں تبدیل کرناچاہتا ہے:نائب وزیراعظم
متحدہ عرب امارات اس رقم سے پاکستانی کمپنیوں کے حصص حاصل کرے گا
بين الاقوامى -
پاکستان نے پی ایس ایل کی دو نئی فرنچائزز کے لیے 10 بولی دہندگان کو منتخب کر لیا
نئی فرنچائزز کی نیلامی آٹھ جنوری کو اسلام آباد میں ہو گی
پاكستان -
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری و فضائی رابطے بڑھانے پر بات چیت
ڈھاکہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے اتوار کے روز بنگلہ دیش کے چیف ...
پاكستان