پاکستان کے علماء کا کابل کے بارے میں مثبت اظہارخیال قابل تعریف ہے:افغان وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور دینی رہنماؤں کے ان خیالات کو سراہا ہے جس کا انہوں نے اپنے حالیہ بیانات میں پاکستان اور کابل کے درمیان کشیدگی کے دوران دونوں ملکوں کے حوالے سے مثبت پیرایہ اختیار کیا۔

علماء کے 23 دسمبر کو ہونے والے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان بھی شریک ہوئے۔ تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے علماء اپنا کردار ادا کر سکیں۔

اس موقع پر علماء نے اپنی تقاریر میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی روابط کو پھر سے بحال کیا جائے اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں آنے والے تعطل کو ختم کیا جائے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ نے ہفتہ کے روز رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایک بیان میں سراج الدین حقانی کی تعریف کی اور افغان وزیر داخلہ پر زور دیا کہ وہ دونوں ملکوں کے مابین پائی جانے والی اس کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ تاکہ تنازعات باہمی بات چیت سے طے ہو سکیں۔

افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا افغانستان خطے کے امن و سلامتی کے لیے کمٹڈ ہے۔ مزید یہ کہ افغان عوام کسی کے خلاف بھی غلط عزائم نہیں رکھتے۔

اپنے اس ویڈیو بیان میں سراج الدین حقانی نے مولانا فضل الرحمان اور مفتی تقی عثمانی کے مثبت طرز فکر اور اظہار خیال کی تعریف کی۔

حقانی نے کہا ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے کابل کے لیے اس اپروچ اور ان خیالات کا اظہار کیا۔ اسی طرح ہم پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے افغانستان کے بارے میں مثبت انداز میں اظہار خیال کیا۔

یاد رہے پاکستان کو شکایت ہے کہ طالبان کی حکومت دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی کی طرف سے کیے جانے والے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کے لیے سہولت کاری کر رہی ہے اور انہیں اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا موقع دی رہی ہے۔

کابل حکومت ٹی ٹی پی کے بارے میں پاکستان کے اس مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر سیکیورٹی کے ایشوز اور چیلنجز کی ذمہ داری طالبان حکومت پر نہیں ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں حملوں اور جوابی حملوں کی صورتحال درپیش رہی ہے۔ تاہم آج کل عارضی جنگ بندی کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں