سوڈان میں اقوام متحدہ کی انسانی ہمدردی کی کوآرڈینیٹر ڈینس براؤن نے مغربی سوڈان کے شہر الفاشر سے واپسی پر وہاں کے رہائشیوں کی صدمے کی حالت اور توہین آمیز و غیر محفوظ حالات میں زندگی گزارنے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کی ہم آہنگی کے دفتر (اوچا) کا ایک وفد مشکل مذاکرات کے بعد جمعہ کو پہلی مرتبہ الفاشر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔ دو ماہ قبل ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف ) نے اس پر قبضہ کیا تھا۔ براؤن نے فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کو ویڈیو لنک کے ذریعے دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کمہ یہ لوگ انتہائی نازک حالات میں رہ رہے ہیں، ان میں سے کچھ متروکہ عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔ اور دیگر پلاسٹک کی چادروں کے ساتھ بدترین حالات میں ہیں، جہاں نہ صفائی کے وسائل ہیں اور نہ پانی۔ یہ لوگوں کے لیے توہین آمیز اور غیر محفوظ حالات ہیں۔
جنسی تشدد
انسانی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے ’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کو دیے گئے اپنے سابقہ بیانات میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ الفاشر میں عام شہری جنسی تشدد اور حملوں کی وجہ سے بھاگے ہیں۔ اقوام متحدہ کے عہدیدار نے زور دیا کہ سوڈان میں خواتین کو جنگ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عام شہریوں کے خلاف حملے بلا روک ٹوک جاری رہے تو انسانی صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔
ڈاکٹرز نیٹ ورک آف سوڈان نے گزشتہ ماہ نومبر میں رپورٹ کیا تھا کہ الفاشر میں صرف ایک ہفتے کے دوران لڑکیوں کے ساتھ ریپ کے تقریباً 32 تصدیق شدہ کیسز درج کیے گئے۔ یاد رہے 18 ماہ کے محاصرے کے بعد ریپڈ سپورٹ فورسز نے گزشتہ 26 اکتوبر کو دارفور میں سوڈانی فوج کے آخری بڑے گڑھ الفاشر پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ نے وہاں قتلِ عام، ریپ کی کارروائیوں، لوٹ مار اور آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی اطلاع دی تھی۔ اے ایف پی کے مطابق سوشل میڈیا پر آر ایس ایف کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیوز سے تائید شدہ متعدد شہادتوں میں اس شہر میں مظالم بیان کیے گئے ہیں جس کا مواصلاتی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ دوسری جانب ریپڈ سپورٹ فورسز نے جنگی جرائم کے وقوع پذیر ہونے کی نفی کی ہے تاہم انہوں نے کچھ تجاوزات کا اعتراف کرتے ہوئے اس میں ملوث افراد کے احتساب کے لیے تحقیقات شروع کرنے کا بھی کہا ہے۔