یمنی پارلیمنٹ نے جنوبی عبوری کونسل کے اقدامات خطرناک جارحیت قرار دیے

پڑوسی ممالک کے استحکام پر منفی اثرات کی وارننگ، سعودی وزارت خارجہ کے بیان کی ستائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

یمنی پارلیمان نے حضرموت اور المہرہ میں تمام غیر قانونی فوجی سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنوبی عبوری کونسل سے کہا ہے کہ وہ ریاستی دائرہ اختیار سے باہر جن مقامات اور کیمپوں پر قابض ہے وہاں سے فوری انخلا کرے۔

یمنی پارلیمان نے جاری بیان میں حضرموت اور المہرہ میں حالیہ پیش رفت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عبوری کونسل کی غیر ذمہ دارانہ فوجی کارروائیوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال تشویش ناک ہے۔ پارلیمان نے صدارتی قیادت کونسل اور اس کے سربراہ کے خودمختار فیصلوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ یہ اقدامات امن و امان اور سماجی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

بیان میں عبوری کونسل کی جانب سے کی جانے والی غیر قانونی فوجی نقل و حرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے ساتھ مسلح کارروائیاں بھی ہوئیں جن کے نتیجے میں امن عامہ متاثر ہوا، سماجی امن کو نقصان پہنچا، ریاستی سول اور عسکری اداروں پر حملے کیے گئے اور شہریوں کے حقوق پامال ہوئے۔ ان اقدامات میں نجی گھروں پر حملے، دیہات کا محاصرہ، قیمتی جانوں کا ضیاع اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔

پارلیمان نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات یمنی آئین، نافذ العمل قوانین، قومی حوالہ جاتی دستاویزات اور یمن سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ یہ عمل ریاستی وحدت اور خودمختاری کے لیے براہ راست خطرہ اور آئینی ریاستی اداروں کے اختیارات سے ناقابل قبول تجاوز ہے۔

بیان میں اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ یمنی بندرگاہوں کے ذریعے اسلحے کی کھیپیں ملک میں داخل کی جا رہی ہیں جو متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے حضرموت کی مکلا بندرگاہ پہنچی ہیں، یہ سب کچھ بغیر کسی قانونی اجازت یا متعلقہ مجاز حکام سے ہم آہنگی کے کیا گیا۔ پارلیمان کے مطابق یہ قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے، سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے اور تنازعے کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا خطرہ رکھتا ہے۔

یمنی پارلیمان نے خبردار کیا کہ اگر یہ اقدامات جاری رہے تو صورتحال خطرناک جارحیت کی طرف جا سکتی ہے، جس سے یمن مزید تقسیم اور تشدد کا شکار ہوگا اور اس کے منفی اثرات پڑوسی ممالک کے امن اور استحکام پر بھی مرتب ہوں گے، جن میں سر فہرست سعودی عرب اور سلطنت عمان شامل ہیں۔ یہ سب حسن ہمسائیگی اور مشترکہ علاقائی سکیورٹی کے اصولوں کے منافی ہے۔

پارلیمان نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ بیرونی عناصر کی حمایت سے عبوری کونسل کے یہ اقدامات ریاستی تعمیر کے عمل میں کوئی مدد نہیں دیتے بلکہ سیاسی کوششوں کو کمزور کرتے، تقسیم کو گہرا کرتے، ریاستی اداروں کو نقصان پہنچاتے اور قومی مفاد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔

یمنی پارلیمان نے سعودی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان اور سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ برادر ملک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور کوششیں یمن کے امن، استحکام، وحدت، علاقائی سلامتی اور عوام کی باعزت زندگی کے لیے مخلصانہ عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ پارلیمان نے خاص طور پر ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروہ کے خلاف سعودی کردار کو قابل قدر قرار دیا۔

بیان میں متحدہ عرب امارات سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ بحران کے حل کا حصہ بنیں اور یمنی عوام کو مشکلات سے نکالنے میں مدد فراہم کریں۔ پارلیمان نے زور دیا کہ خلیج تعاون کونسل میں شامل شراکت داروں بالخصوص سعودی عرب اور سلطنت عمان کی قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اور دانشمندانہ اقدامات کیے جائیں جو بھائی چارے، ہمسائیگی اور مشترکہ مفادات کے تقاضوں کے عین مطابق ہوں۔

یمنی پارلیمان نے آخر میں کہا کہ موجودہ مرحلہ تمام فریقوں سے قانونی اور تاریخی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ اختلافات کو عسکری رنگ دینے کے بجائے سیاسی حل کو ترجیح دی جائے تاکہ یمن کی وحدت، امن، سرزمین کی سلامتی اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں