نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے آج جمعرات کی صبح سویرے غزہ کی پٹی پر فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری کی۔
العربیہ / الحدث کے نمائندے کے مطابق، بمباری غزہ شہر کے مشرقی علاقوں کو نشانہ بناتی رہی، جو غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے رفح شہر کے مشرقی علاقوں پر بھی حملے کیے، جو توپ خانے کی گولہ باری کے ساتھ بیک وقت تھے۔ اس دوران زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور اسرائیلی فوجی گاڑیوں کی جانب سے وقفے وقفے سے فائرنگ بھی کی گئی۔
غزہ شہر کے مشرق میں واقع الزیتون اور الشجاعیہ محلوں میں بھی اسرائیلی فوج نے فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری کی، جس کے ساتھ دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
اسی طرح غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرقی علاقوں کو بھی اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری اور فوجی گاڑیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل 10 اکتوبر گذشتہ سال سے حماس تنظیم کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ غزہ میں سرکاری میڈیا دفتر کے مطابق، اتوار تک ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 418 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی جنگ جو 8 اکتوبر 2023 کو شروع ہوئی اور دو برس تک جاری رہی کے نتیجے میں 71 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس کے علاوہ وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی، جس کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 70 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔