وینزویلا پر امریکہ حملہ ... ایرانی اور روسی مذمت ، یورپ کی طرف پُر سکون حالات کی اپیل

تہران نے اس کارروائی کو کراکس کی خود مختاری اور اس کی علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے اور اس کے رہنما کی گرفتاری کے اعلان کے بعد، کئی ممالک نے کراکس میں جاری واقعات پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے، جبکہ یورپی ممالک نے صورت حال کو پرسکون رکھنے کی اپیل کی ہے۔

ایران نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملے کی "شدید مذمت" کی ہے، جس کے ساتھ تہران کے گہرے تعلقات ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک وینزویلا پر امریکی فوجی حملے اور ملک کی خود مختاری و علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی کی سخت مذمت کرتا ہے اور امریکہ کی اس غیر قانونی جارحیت کو مسترد کرتا ہے۔

ادھر روس نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو "انتہائی تشویش ناک اور قابلِ مذمت" قرار دیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز کہا کہ ماسکو وینزویلا پر امریکہ کی "مسلح جارحیت" پر گہری تشویش کا اظہار اور اس کی مذمت کرتا ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ موجودہ صورت حال میں مزید کشیدگی کو روکنا اور مذاکرات کے ذریعے بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے پر توجہ دینا ضروری ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے وینزویلا میں "تحمل" اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیا ہے۔ کایا کالاس نے "ایکس" پر بتایا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور اشارہ دیا کہ یورپی یونین نکولس مادورو کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتی ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ہر حال میں بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے منشور کا احترام ہونا چاہیے۔

کئی یورپی ممالک نے بھی امن یقینی بنانے اور کشیدگی میں کمی کی اپیل کی ہے۔ جرمن وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ وینزویلا کی صورت حال پر گہری تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے اور بحران سے نمٹنے والی ٹیم مزید مشاورت کے لیے اجلاس کرے گی۔ ہسپانوی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں امن اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی اپیل کی اور وینزویلا میں پُر امن حل تلاش کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی کی۔

بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر وینزویلا کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی بتایا کہ روم اور کراکس میں ان کا سفارتی عملہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور وزیر اعظم جارجیا میلونی کو صورت حال سے مسلسل با خبر رکھا جا رہا ہے۔

یہ رد عمل اس وقت سامنے آیا جب وینزویلا کے دارالحکومت کراکس اور دیگر علاقوں میں کئی دھماکے ہوئے، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ان کے ملک نے "وینزویلا اور اس کے رہنما کے خلاف بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے"۔ ٹرمپ نے اپنے "ٹروتھ سوشل" اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سمیت گرفتار کر کے فضائی راستے سے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے مادورو پر "منشیات کی ریاست" چلانے اور انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ دوسری جانب وینزویلا کے رہنما جنہوں نے 2013 میں ہوگو شاویز کے بعد اقتدار سنبھالا تھا، واشنگٹن پر اپنے ملک کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے رہے ہیں، جو کہ دنیا میں سب سے بڑے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں