ایران میں احتجاج کے بیچ ... صدر پزشکیان مسائل حل کرنے کے لیے پُر عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران میں مہنگائی، خراب معاشی حالات اور سیاسی مطالبات کے باعث بڑھتے ہوئے احتجاجات کے بیچ صدر مسعود پزشکیان نے پیشہ ور طبقات کے مسائل حل کرنے کے لیے ذاتی طور پر مداخلت کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان طبقات کے جائز مطالبات کو سنا جائے اور فوری طور پر ان کا حل نکالا جائے۔ صدر نے کہا کہ حکومت پوری کوشش کرے گی کہ کسی بھی پیشہ ور طبقے کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ خود مظاہرین سے براہ راست بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں تاکہ ان کے جائز مطالبات حل کیے جا سکیں۔

زراعت کے امور سے متعلق وزارت کے وزیر اور اعلیٰ حکام کے ساتھ اجلاس کے دوران صدر پزشکیان نے بتایا کہ بعض پیشہ ور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جس کے لیے سنجیدہ اور فوری حل کی ضرورت ہے، خاص طور پر اگر اس میں حکومتی کوتاہی شامل ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت طاقت یا جبر کے ذریعے کسی طبقے سے نمٹنے کی پالیسی نہیں اپنائے گی، بلکہ ہر مسئلے کا فوری حل نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے نئی کرنسی پالیسی کے باعث کسی طبقے کو نقصان پہنچنے سے روکنے کی بھی ہدایت کی۔

ایرانی صدر نے صوبائی حکام کو ہدایت دی کہ وہ پیداواری شعبوں اور مختلف پیشوں سے وابستہ افراد کو بلا کر ان کی شکایات سنیں اور فوری اقدامات کریں۔ اگر کوئی مسئلہ مرکزی حکومت کی سطح پر مداخلت کا متقاضی ہو تو فوراً اطلاع دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ذمہ داری کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ تمام عوام کے مسائل حل کرنا ہے۔ مزید یہ کہ ہر مسئلے کو بغیر کسی امتیاز کے حل کیا جائے گا۔

اسی تناظر میں صدر پزشکیان نے پیشہ ور طبقات کے مسائل کے فوری حل کے لیے ایک خصوصی آپریشن روم قائم کرنے کی ہدایت دی اور پیداواری شعبوں کے ساتھ مسلسل رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بیرونی دشمن عناصر پر بھی تنقید کی جو ملک میں بد امنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کہا کہ کسی کو بھی اندرون ملک ایسے منصوبے نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب ملک کے مغربی حصے میں احتجاجات کے ساتویں روز ایک سیکیورٹی اہل کار، جو بسیج فورس سے تعلق رکھتا تھا، چاقو کے وار اور فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ پاسداران انقلاب کے مطابق علی عزیزی نامی اہل کار جمعے کے روز شہر ہرسین میں مسلح ہنگامہ آرائی کے دوران مارا گیا۔

یہ احتجاجات کم از کم 25 شہروں تک پھیل چکے ہیں، جن میں زیادہ تر مغربی اور جنوب مغربی علاقے شامل ہیں۔ مظاہروں کی بنیادی وجہ اتوار کے روز مقامی کرنسی کی قدر میں اچانک اور شدید کمی بتائی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں