وینزویلا کے دارالحکومت میں مقامی وقت کے مطابق تقریباً 2 بجے شدید دھماکوں کی آوازیں اور نیچی پرواز کرنے والے لڑاکا طیاروں کی گڑگڑاہٹ جیسی آوازیں سنی گئیں۔ اگرچہ ان دھماکوں کی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکیں، لیکن عینی شاہدین نے آج صبح سویرے وینزویلا کے دارالحکومت میں تیز شور کی آوازیں سننے، طیارے دیکھنے اور کم از کم ایک دھویں کا بادل اٹھتے ہوئے دیکھنے کی اطلاع دی ہے۔
اس کے علاوہ شہر کا جنوبی علاقہ جو ایک بڑی فوجی اڈے کے قریب ہے، اس میں بجلی کی فراہمی بھی منقطع ہو گئی ہے۔اسی دوران مقامی میڈیا نے لڑاکا جنگی طیاروں کی پرواز کی گڑگڑاہٹ اور دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں 7 دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی ہے۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وینزویلا کی سب سے بڑی بندرگاہ، ریاست ورگاس کی لا گوائرہ بندرگاہ میں بھی دھماکے ہوئے ہیں۔
کیرِبیئن میں کشیدگی
یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب کیرِبیئن (Caribbean) خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، خاص طور پر اس کے بعد کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار وینزویلا میں زمینی کارروائیوں کی دھمکی دی تھی، تاکہ صدر نکولس مادورو پر دباؤ ڈال کر انہیں عہدے سے مستعفی کرایا جا سکے۔
گزشتہ پیر کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایک سمندری برتھ تباہ کر دی جو مبینہ طور پر منشیات سمگل کرنے والی کشتیوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا، یہ وینزویلا کی زمین پر پہلا امریکی حملہ سمجھا جاتا ہے۔ مادورو نے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
اسی دوران ٹرمپ انتظامیہ نے کاراکاس پر دباؤ بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے، جن میں پابندیوں میں اضافہ، خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو مضبوط کرنا اور مشتبہ منشیات سمگلنگ کشتیوں پر 20 سے زائد حملے شامل ہیں، جو بحر الکاہل اور کیریبیئن سمندر میں سرگرم تھیں۔
وینزویلا کے کئی شہریوں نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ امریکہ کی جانب سے آئل ٹینکرز پر پابندی لگانے سے ضروری اشیا کی کمی پیدا ہو سکتی ہے، حالانکہ مادورو نے کہا ہے کہ ملک خود کفیل ہے۔ تاہم 2016 اور 2017 کی شدید کمی کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔
گذشتہ دسمبر میں ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ وینزویلا سے آنے یا جانے والے تمام پابندی شدہ آئل ٹینکرز پر مکمل پابندی عائد کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کوسٹ گارڈ اور وزارت دفاع نے دو آئل ٹینکر ضبط کیے، جن میں سے ہر ایک میں ایک ملین سے زائد بیرل تیل موجود تھا۔