وینزویلا کے منحرف فوجیوں کی نئی اعلیٰ ملٹری کمانڈ تشکیل دینے کی کوشش
کولمبیا میں موجود سابق فوجی اور پولیس اہلکار واپسی کی تیاری میں مصروف، مادورو کے بعد کے منظرنامے پر نظریں
کولمبیا میں پناہ لیے ہوئے وینزویلا کے سکیورٹی اداروں سے منحرف اہلکار حیرت اور انتظار کی کیفیت میں نکولس مادورو کی گرفتاری کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے نئی عسکری قیادت کے قیام کے لیے وطن واپسی پر بھی غور شروع کردیا ہے۔
تقریباً سات برس قبل غداری کے الزامات کے بعد فوجی اور سابق پولیس اہلکار کولمبیا منتقل ہوگئے تھے تاہم ان کے بہ قول امریکہ کی جانب سے مادورو کی گرفتاری نے پورے منظرنامے کو یکسر بدل دیا ہے۔
ایک سابق فوجی کمانڈر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب وہ فوج میں جنرل کے عہدے پر تعیناتی کے قریب تھے تو اخلاقی وجوہات کی بنا پر اور اپنے اعلیٰ افسران سے اختلاف کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ یہ بات خبر رساں ادارے اے ایف پی نے نقل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مادورو کے بغیر موجودہ اعلیٰ عسکری قیادت جس میں ان کے بعض سابق ساتھی شامل ہیں کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔
تاہم موجودہ حالات میں پولیس کے اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے سابق اہلکار ویلیاس کانسینو نے کہا کہ یہ افسران اب بھی مکمل طور پر نظام کے وفادار ہیں۔
واپسی کا منصوبہ
منحرف اہلکاروں نے بتایا کہ وہ اپنے سابق ساتھیوں اور اس اجتماعی فرار میں شریک عناصر سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کا منصوبہ ہے کہ وہ واپس جا کر فوج کی موجودہ اعلیٰ قیادت کی جگہ نئی قیادت قائم کریں جس پر غیر سرکاری تنظیمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔
اسی حوالے سے کانسینو نے بتایا کہ وہ سنہ 2019ء میں فوجی وردی میں ملبوس افراد کے ایک گروپ کے ساتھ سرحد تک پہنچے اور پیدل کولمبیا میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے اپنے ہتھیار حکام کے حوالے کر دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایک نئی اعلیٰ قیادت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس مناسب لمحے کے منتظر ہیں جب منتخب ہونے والی نئی حکومت کی حمایت کریں گے ،ریاستی اداروں کی ازسرنو تعمیر کریں گے اور ملک میں نظم بحال کریں گے۔
کانسینو نے مزید کہا کہ اس بار ان کی امیدیں بے حد وسیع ہیں اور اب واقعی وینزویلا میں آزادی کا دور شروع ہوچکا ہے۔
فوج اور پولیس کی وفاداری
منحرف اہلکاروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی فوجی کارروائی کے باوجود فوج اور پولیس کے ادارے اب تک مادورو کے وفادار ہیں جو گذشتہ ہفتے ہفتے کے روز انجام دی گئی تھی۔
یہ دونوں ادارے اب بھی وزیر داخلہ دیوسدادو کابیلو اور وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو کی قیادت میں ہیں اور یہ دونوں امریکی عدلیہ کو مطلوب ہیں۔
ہم خانہ جنگی نہیں چاہتے
سابق تفتیش کار کلیبرتھ ڈیلگاڈو نے اس امکان پر شکوک کا اظہار کیا کہ وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی اس وقت تک ممکن ہے جب تک ڈیلسی رودریگس کے وفادار اعلیٰ افسران اپنے عہدوں پر برقرار ہیں۔ ڈیلگاڈو نے بتایا کہ وہ آسکر پیریز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو سنہ 2017ء میں مادورو کے خلاف بغاوت کے بعد مشہور ہوئے تھے تاہم سنہ 2018ء میں انہیں قتل کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ منحرف اہلکار رودریگس کی حکومت کے سامنے سکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا ڈھانچا پیش کرنا چاہتے ہیں۔ سرحد کے قریب ایک عوامی علاقے میں واقع خفیہ ٹھکانے سے انہوں نے بتایا کہ اگر ان کی تجویز مسترد کردی گئی تو ہتھیار ہمیشہ ایک آپشن کے طور پر موجود رہیں گے۔
تاہم کانسینو نے اس بات پر زور دیا کہ وہ کسی تصادم خانہ جنگی یا بھائیوں کے درمیان خونریزی کے خواہاں نہیں ہیں۔
دوسری جانب امریکہ میں مقیم خوان گوایدو نے اپوزیشن رہنما اور نوبل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو کے ساتھ تعاون کو آگے بڑھنے کا راستہ قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ ان کا ملک وینزویلا کی قیادت سنبھال رہا ہے تاہم انہوں نے فوجی دستوں کی تعیناتی یا وینزویلا کی مسلح افواج سے باہر کسی خصوصی فورس کی حمایت کا اعلان نہیں کیا۔
ادھر مادورو نے پیر کے روز نیویارک کی ایک عدالت میں پیش ہو کر اپنی بے گناہی پر اصرار کیا جبکہ وینزویلا کی فوج نے نائب صدر ڈیلسی رودریگس کی حمایت کا اعلان کیا جنہوں نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔
اسی دوران ٹرمپ نے رودریگس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے ضروری اقدامات نہ کیے تو انہیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی جو شاید مادورو سے بھی زیادہ ہو۔
-
وینزویلا کی اپوزیشن رہنما جلد از جلد وطن واپسی کی منصوبہ بندی میں مصروف
وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماتشادو نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ "جلد ...
بين الاقوامى -
وینزویلا کے صدارتی محل کے قریب فائرنگ کی آوازوں کی اطلاع
وینزویلا کے صدارتی محل کے قریب پیر کے اواخر میں گولیاں چلائی گئیں، عینی شاہدین نے ...
بين الاقوامى -
ایک خفیہ امریکی جائزہ : مادورو کے لوگ وینزویلا پر حکمرانی کے زیادہ اہل ہیں
گذشتہ دو دنوں کے دوران بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں اپوزیشن ...
بين الاقوامى