امریکی وزیرِ داخلہ کرسٹی نوئم نے بدھ کی شام اعلان کیا کہ مینیاپولیس میں ایک خاتون کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکار پر اس واقعے کے دوران خاتون کی گاڑی سے ٹکرانے کا الزام تھا۔
نوئم نے وضاحت کی کہ خاتون نے اہلکار کو اپنی گاڑی سے ٹکر مار دی، جس کے باعث اہلکار کو اسپتال منتقل کرنا پڑا جہاں وہ علاج کے بعد بحال ہوئے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ شہر میں امیگریشن قوانین کے نفاذ کے عمل کو اس حادثے کے باوجود جاری رکھے گی۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اس معاملے میں مہلک قوت کا استعمال قانونی طور پر جائز تھا کیونکہ گاڑی کو دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ نوئم کے مطابق اہلکاروں نے خاتون کو متعدد بار گاڑی سے اترنے اور قانون کے نفاذ میں رکاوٹ ڈالنے سے باز رہنے کی ہدایت کی، مگر وہ تعاون نہ کر سکیں اور اہلکار کو ٹکر مارنے کی کوشش کی۔ نوئم نے بتایا کہ یہ وہی اہلکار ہے جو گزشتہ گرمیوں میں ایک اور کارروائی کے دوران گاڑی سے دھکے کھا چکے ہیں۔
تاہم اس سرکاری بیان کے برعکس عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز کے بعد تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔ ویڈیوز میں تین اہلکاروں کو دکھایا گیا ہے جو مقتولہ کی گاڑی کے گرد موجود ہیں، جسے بعد میں 37 سالہ رینیہ نیکول گڈ کے طور پر شناخت کیا گیا۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اہلکار گاڑی کا دروازہ زبردستی کھولنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ فائر کرنے والا اہلکار گاڑی کے سامنے کھڑا ہے اور اس کی طرف بڑھتی گاڑی کے سامنے اپنی بندوق نکالے ہوئے ہے۔ اسی دوران تین فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، جس کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر ایک پارک شدہ گاڑی سے ٹکرا جاتی ہے۔نوئم کے بیان پر مقامی حکام کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔
Kristi Noem said officer was hit by car in deadly Minneapolis shooting, bashes city and state leadershttps://t.co/jg2h2j0nde
— The Hill (@thehill) January 8, 2026
مینیاپولیس کے میئر جیکوب فری نے وزیر کی وضاحت کو ''محض فضول دعویٰ'' قرار دیتے ہوئے اہلکار پر طاقت کے غلط استعمال اور ایک انسان کی ہلاکت کا الزام لگایا۔مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے شہریوں سے کہا کہ وہ وفاقی انتظامیہ کی ''پروپیگنڈا مشین ''پر یقین نہ کریں،انھوں نے واضح کیا کہ ریاست اور وفاق کے درمیان نقطہ نظر میں واضح اختلاف موجود ہے، خاص طور پر سیف سٹی پالیسیوں کے حوالے سے جنہیں واشنگٹن مجرموں کی پناہ دینے کے الزامات کے تحت تنقید کا نشانہ بناتی ہے، جبکہ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ICE کی حراست میں موجود افراد کے پاس کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے۔
گورنر والز نے صدر ٹرمپ اور وزیر نوئم کو براہِ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کو مزید وفاقی مداخلت کی ضرورت نہیں ،انھوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج کے دوران پرامن رہیں اور کمیونٹی کے اتحاد کو برقرار رکھیں تاکہ موجودہ انتظامیہ کی طرف سے پیدا کی جانے والی تقسیم کے اثرات سے نمٹا جا سکے۔