ایکس پر ایک پوسٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکاروں نے غذائی امداد چوری ہونے کی اطلاعات پر بدھ کے روز صومالیہ کے رہنماؤں کی سرزنش کی اور ملک کی حکومت کے لیے "تمام جاری امریکی امدادی پروگرام" موقوف کر دیے۔
امداد کے ضیاع یا چوری کے لیے اپنی "زیرو ٹالرینس پالیسی" کا ذکر کرتے ہوئے امریکی ماتحت سیکریٹری برائے غیر ملکی امداد، انسانی امور و مذہبی آزادی نے پوسٹ کیا کہ انکے ادارے کو اطلاعات موصول ہوئیں کہ صومالی حکام نے "عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کا امریکی مالی اعانت سے چلنے والا گودام تباہ کر دیا اور غیر قانونی طور پر 76 میٹرک ٹن عطیہ کردہ خوراک ضبط کر لی جو کمزور طبقات کے لیے تھی۔"
امریکی حکام نے مزید کہا کہ مستقبل میں کسی بھی امداد کا انحصار "صومالیہ کی وفاقی حکومت کی جانب سے احتساب" اور معاملے کا تدارک کرنے پر ہو گا۔
قرنِ افریقہ پر واقع جنگ زدہ صومالیہ کو اقوامِ متحدہ نے مسلسل دنیا کے ایک کم ترین ترقی یافتہ ملک کے طور پر درجہ بند کیا ہے۔
صومالیہ میں حکام نے معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن نے بار بار امریکہ میں موجود صومالیوں پر تنقید کی ہے، مینیسوٹا میں انہیں امیگریشن چھاپوں میں نشانہ بنایا ہے اور وسطی مغربی ریاست کی صومالی کمیونٹی میں عوامی فلاح کی امداد میں وسیع دھوکہ دہی کا الزام لگایا ہے۔ تقریباً 80,000 اراکین کے ساتھ یہ ملک کی سب سے بڑی کمیونٹی ہے۔
گذشتہ نومبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اجتماعی تشدد کا الزام لگاتے ہوئے صومالی تارکینِ وطن کے لیے عارضی طور پر محفوظ حیثیت ختم کر دی اور کہا تھا، "انہیں وہیں واپس بھیج دیا جائے، جہاں سے یہ آئے ہیں۔"
یہ اقدام اسرائیل کے اتحادی صومالیہ اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی رسہ کشی میں ایک تازہ ترین دھچکہ بھی ہے۔
اسرائیل نے گذشتہ ماہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔
خلیج عدن پر یمن میں اسرائیل کے حریفوں کے قریب واقع ہونے کی بنا پر صومالی لینڈ کی پوزیشن فوجی حکمتِ عملی کے لحاظ سے بہت اہم ہو جاتی ہے۔
تقریباً دو عشروں سے صومالی حکومت کے خلاف جنگ لڑنے والے انتہا پسند عسکریت پسند گروپ الشباب نے عزم کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرف سے صومالی لینڈ کو فوجی مرکز کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کریں گے۔
صومالی لینڈ کی اپنی کرنسی، پاسپورٹ اور فوج ہے لیکن اسے بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کا سامنا رہا ہے۔
امریکہ نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی حمایت کی لیکن مصر، ترکی، چھے ملکی خلیج تعاون کونسل اور سعودی عرب میں قائم اسلامی تعاون تنظیم نے اس پر تنقید کی۔
یورپی یونین کا اصرار ہے کہ صومالیہ کی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔