مس ریچل کی غزہ کے بچوں کے فن پاروں کی نمائش، نوجوانوں کے لیے فنڈز جمع کریں گی
یوٹیوب سٹار محترمہ ریچل نے فلسطینی بچوں کے لیے فنڈز جمع کرنے کی غرض سے نیویارک میں ایک نمائش کا انعقاد کیا جس میں غزہ کے نوجوان فنکاروں کے تخلیق کردہ فن پارے فروخت کیے جائیں گے۔
اپنے تازہ ترین اقدام میں ابتدائی بچپن کی تعلیم دینے والی معلم اور یوٹیوبر ریچل اکورسو نے منگل کے روز چیلسی میں Caelum Gallery میں 'زندہ بچ جانے والے رنگ' کے عنوان سے ایک روزہ نمائش منعقد کی۔
شو میں غزہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کے فن پارے پیش کیے گئے جن کی آمدنی براہِ راست نوجوان فنکاروں تک پہنچے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہر آرٹ ورک کے 20 محدود پرنٹس میں سے ہر ایک 200 ڈالر میں فروخت ہو گا۔
نمائش کے بعد فن پارے 30 جنوری تک موجود رہیں گے جو فلاحی کاموں کے لیے آرٹ فروخت کرنے والی ایک تنظیم آرٹسٹ سپورٹ کے ذریعے خریدے جا سکیں گے۔
اس نمائش کو ’دی وائس آف ہند رجب‘ کے فلم سازوں کا تعاون و اشتراک حاصل ہے جو 2024 میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں چھے سالہ بچی ہند رجب کے قتل کے لمحات کی ریکارڈنگ پر مبنی ہے۔
نمائش میں پیش کردہ نمایاں فن پاروں میں 16 سالہ فنکار یارا کی 'بیگنگ فار فوڈ' ہے جس میں غزہ کی فاقہ کشی کی عکاسی کی گئی ہے۔
بارہ سالہ احمد سے منسوب ایک اور فن پارہ 'ہاؤس آن ہز بیک' ایک ایسی شخصیت کی تصویر کشی کرتا ہے جس نے اپنے گھر کا وزن کمر پر لاد رکھا ہے۔
نوجوان فنکاروں کی شناخت صرف پہلے نام سے ہوتی ہے۔
یہ نمائش فلسطینی بچوں کی آوازوں کو نمایاں کرنے کے لیے اکورسو کی حالیہ کوششوں پر مبنی ہے۔
نومبر میں اس نے گلیمر میگزین کی ویمن آف دی ایئر گالا میں فلسطینی بچوں کے آرٹ ورک سے مزین لباس کا ڈیبیو کیا۔
غزہ میں اسرائیل کے اقدامات بالخصوص بچوں کے قتل کے خلاف اکورسو کو عوامی مخالفت کے بعد شدید ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مئی 2024 میں پوسٹ کی گئی ایک صدماتی ویڈیو میں انہوں نے اپنے تبصروں کے نتیجے میں ہونے والی بدمعاشی اور دھمکیوں کے بارے میں بات کی لیکن کہا کہ وہ اپنی بات جاری رکھیں گی۔
اپنے یوٹیوب چینل پر اکورسو نے غزہ بشمول رفح سے تعلق رکھنے والے بچوں کو دکھایا ہے جن میں اسرائیلی فضائی حملے کا شکار ایک تین سالہ بچی کے دو اعضاء کاٹ دیئے گئے تھے۔
انہوں نے فلسطینی بچوں کے لیے کئی فنڈ ریزرز کی معاونت کی ہے جن میں ایک کیمیو اقدام میں مبینہ طور پر 50,000 ڈالر جمع ہوئے اور اپنی وکالت کا دفاع کرتے ہوئے انٹرویوز بھی دیے ہیں۔
ان کا انسٹاگرام فی الحال 16 سالہ فنکار یارا ابو کویک کے لیے فنڈ ریزر سے منسلک ہے جو غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں سے بے گھر ہو جانے والے افراد میں شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 50,000 فلسطینی بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
-
غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے بجائے کسی اور کے حوالے کرنے پر آمادگی "علاحدگی" ہے : فتح
الحائک کے مطابق بیرونی مرجع ہونے کی صورت میں غزہ کی پٹی ایک خطہ اور مغربی کنارہ ...
مشرق وسطی -
جنگ بندی کے بعد سے غزہ کی پٹی میں کم از کم 100 بچے ہلاک ہو چکے ہیں : اقوام متحدہ
یونیسف تنظیم کے مطابق یہ بچے فضائی بم باری ، ڈرون حملوں اور ٹینکوں کی گولہ باری ...
مشرق وسطی -
برطانوی وزیر اعظم کی ٹرمپ کے غزہ انتظامی کونسل میں شمولیت متوقع
ٹرمپ غزہ کے لیے عارضی امن کونسل کی سربراہی کریں گے، تعمیر نو اور انتظامی فیصلے ...
بين الاقوامى