غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے بجائے کسی اور کے حوالے کرنے پر آمادگی "علاحدگی" ہے : فتح

الحائک کے مطابق بیرونی مرجع ہونے کی صورت میں غزہ کی پٹی ایک خطہ اور مغربی کنارہ دوسرا خطہ بن جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فلسطینی تنظیم "فتح مومنٹ" کے ترجمان منذر الحائک کے مطابق اگر حماس تنظیم فلسطینی قومی اتھارٹی کی نگرانی کے بغیر ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی بنانے پر رضامند ہو گئی، تو اس کا مطلب "علاحدگی کی طرف بڑھنا" ہو گا۔

انہوں نے پیر کے روز کہا کہ اگر انتظامیہ کا مرجع بیرونی ہو گا تو غزہ کی پٹی ایک علاحدہ خطہ اور مغربی کنارے علاحدہ خطہ بن جائیں گے۔

الحائک نے زور دیا کہ واحد راستہ یہ ہے کہ حماس کا سیاسی وفد مصر جائے، ثالثوں سے ملاقات کرے اور واضح طور پر یہ اعلان کرے کہ وہ ایسی کمیٹی تشکیل دینے سے انکار کرتی ہے جس کا مرجع فلسطینی قومی اتھارٹی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سطحوں پر حماس کے ساتھ رابطے جاری ہیں، مگر اب تک کوئی واضح جواب نہیں ملا۔

الحائک نے بتایا کہ فلسطینی موقف اور فتح موومنٹ کا بھی یہ ہے کہ عبوری مرحلے میں غزہ کی پٹی کی انتظامیہ کے لیے ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت ہو اور فلسطینی وزیر کی قیادت میں کام کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال اب ایک سنگین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فلسطینی قانونی سیاسی نظام کی ضرورت ہے تاکہ عالمی برادری کو امداد اور تعمیر نو کے لیے متحرک کیا جا سکے۔

اسی دوران "العربيہ" کے مطابق ایک فلسطینی ذریعے نے بتایا کہ فلسطینی گروپ آج قاہرہ میں ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی کے قیام پر بات کریں گے۔

اس سے قبل حماس نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ غزہ کے تمام سرکاری اداروں اور محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مکمل تیاری کر لیں تاکہ علاقے کی انتظامیہ ایک آزاد فلسطینی "ٹیکنوکریٹس" کمیٹی کو سونپی جا سکے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ "یہ اقدام قومی سمجھوتوں کے جواب میں کیا گیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق غزہ میں امن کونسل تشکیل دینے کی نیت کے پیش نظر ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام محکموں کو اس عمل کو آسان بنانے اور کمیٹی کے کام میں کامیابی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ قاسم نے کہا کہ فیصلہ حتمی اور واضح ہے اور یہ فلسطینی اعلیٰ مفاد میں ہے ... اور اس کا مقصد وہ منصوبہ ہے جو غزہ میں جنگ روکنے کے لیے شرم الشیخ میں طے پایا تھا۔

فلسطینی گروپوں نے 24 اکتوبر کو قاہرہ میں ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ غزہ کی پٹی کی عبوری انتظامیہ ایک عبوری فلسطینی کمیٹی کو سونپی جائے جو علاقے کے آزاد اور ماہر افراد پر مشتمل ہو۔

گروپوں نے یہ بھی کہا کہ فلسطینی رہنمائی اور قیادت کے لیے فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کو ایک متفقہ حکمت عملی کے تحت فعال کیا جائے تاکہ وہ قانونی اور واحد نمائندہ ادارہ بنے۔

غزہ کی انتظامیہ کی کمیٹی ایک اہم فائل کے طور پر سامنے آئی ہے جو معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے جڑی ہوئی ہے، مگر اب تک اس کا آغاز نہیں ہوا، حالانکہ مصر نے اس کے قیام کی تجویز پہلے پیش کی تھی۔
مصر کی تجویز کے مطابق ایک آزاد اور ماہر شخصیات پر مشتمل "ٹیکنوکریٹس" کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس کا فلسطینی گروپوں نے اس وقت خیر مقدم کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں